نیوزڈیسک
لاہور: دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جہاں بہاؤ ایک لاکھ چوہتر ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے۔
جسڑ اور بلوکی کے علاقوں میں بھی اونچے درجے کے سیلاب کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قادر آباد اور خانکی میں دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، تاہم وہاں پانی کے بہاؤ میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
قادر آباد میں بہاؤ نو لاکھ ایک ہزار پانچ سو کیوسک جبکہ خانکی میں سات لاکھ بائیس ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
دریائے ستلج میں بھی پانی کی آمد میں اضافہ جاری ہے، ہیڈسلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے جس کا بہاؤ 109,305 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
بہاولنگر کے دریائی بیلٹ سے ملحقہ علاقوں میں متعدد بستیاں زیرِ آب آ گئی ہیں، اور ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
پانی کے تیز بہاؤ سے کئی عارضی حفاظتی بند اور رابطہ سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق دو ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اٹھارہ فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں۔
دریائے چناب میں کوٹ مومن کے مقام پر چھ لاکھ کیوسک کا ریلہ داخل ہوا، اور سرگودھا میں پچیس افراد اور سترہ سو سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ اگر ڈیم بنائے گئے ہوتے تو اس سیلاب سے بچا جا سکتا تھا اور سستی بجلی بھی دستیاب ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیس سال بعد اتنا زیادہ پانی آ رہا ہے، اور ملک میں ڈیموں کی کمی ہماری نااہلی ہے، اس لیے ہر جانب سے بجٹ مختص کر کے ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔