بریڈفورڈ، برطانیہ:صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا بین الاقوامی ادارہ قائم کیا ہے جسے متنازع طور پر “بورڈ آف پیس” کا نام دیا گیا ہے۔ اس اقدام میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر نہیں کہ کون اس میں شامل ہوا ہے، بلکہ اس پر ہے کون کون اس میں شامل نہیں ہوا-
برطانیہ نے دستخطی تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا، جبکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعدد ارکان، جن میں فرانس، روس، چین اور دیگر شامل ہیں، نے بورڈ کے مقصد اور جواز کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کا انکار روس کے صدر پیوٹن کی شمولیت کے امکان پر ہے – دیگر ریاستوں کو خوف ہے کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کو نظرانداز کرنے یا حتیٰ کہ اس کی جگہ لینے کی سمت پہلا قدم ہو سکتا ہے—ایک ایسا ادارہ جس کے ساتھ صدر ٹرمپ کا تعلق طویل عرصے سے کشیدہ رہا ہے۔
بورڈ آف پیس کو ابتدا میں غزہ میں جاری دو سالہ اسرائیل–فلسطین جنگ کے خاتمے اور تباہ حال غزہ پٹی کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر بتایا جاتا ہے کہ اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ابتدائی منظوری بھی حاصل ہوئی تھی۔
تاہم، بورڈ کے منشور میں فلسطینی علاقوں کا کوئی صریح حوالہ موجود نہیں، جس سے یہ شبہات تقویت پاتے ہیں کہ اس تنظیم کا وسیع تر مقصد محض غزہ پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے وہ ذمہ داریاں سنبھالنا ہو سکتا ہے جو روایتی طور پر اقوامِ متحدہ ادا کرتی رہی ہے۔
اس کے باوجود، وائٹ ہاؤس کے مطابق اس فریم ورک میں ایک “غزہ ایگزیکٹو بورڈ” شامل ہے، جسے ایک تکنوکریٹک انتظامی ڈھانچے کے ذریعے زمینی سطح پر کارروائیوں کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔
بورڈ کے منشور میں بورڈ آف پیس کو بین الاقوامی قانون کے تحت امن سازی کی سرگرمیاں انجام دینے کا اختیار رکھنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ رکن ممالک تین سالہ قابلِ تجدید مدت کے لیے خدمات انجام دیں گے، جبکہ مستقل نشستیں اُن ممالک کو دستیاب ہوں گی جو کم از کم ایک ارب ڈالر (740 ملین پاؤنڈ) کی شراکت کریں—یعنی کارپوریٹ سرمایہ کاری کے ماڈل کے تحت۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو بیک وقت بورڈ کا چیئرمین اور امریکی نمائندہ نامزد کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں ایگزیکٹو بورڈ کے اراکین مقرر کرنے اور ذیلی ادارے قائم یا ختم کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے ایگزیکٹو بورڈ کے سات بانی اراکین کا پہلے ہی اعلان کر دیا ہے، جن کا جھکاؤ نمایاں طور پر ٹرمپ کے سیاسی
اور معاشی نظریات سے ہم آہنگ شخصیات کی جانب ہے۔
ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت “قبول” کر لی ہے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ روس اس اقدام میں منجمد اثاثے فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم ماسکو کے مطابق پوتن تاحال اس پیشکش پر غور کر رہے ہیں۔
برطانوی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امن کی بات قابلِ اعتبار طور پر کرنا مشکل ہے جب روس نے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس عزم ظاہر نہیں کیا
دریں اثنا، سات مسلم اکثریتی ممالک—سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان اور قطر—نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے حصول، تعمیرِ نو اور “ منصفانہ اور پائیدار امن” کی بنیادوں پر شمولیت کا اعلان کیا ہے ۔
سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ٹرمپ نے دہرایا کہ متعدد عالمی رہنماؤں نے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوتیں قبول کر لی ہیں۔ تاہم یہ اب بھی واضح نہیں کہ کتنے ممالک کو باضابطہ طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
ایگزیکٹو بورڈ ایک ایسے تکنوکریٹک کمیٹی کی نگرانی کرے گا جسے غزہ کی عارضی حکمرانی اور تعمیرِ نو کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر ٹرمپ کے اسٹریٹجک ڈیزائن سے ہم آہنگ سمجھا جا رہا ہے-
اس کے ساتھ ساتھ ایک علیحدہ غزہ ایگزیکٹو بورڈ نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کی تمام گرونڈ لیول کی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا۔
ان تمام اداروں کے اوپر بورڈ آف پیس ہے، جسے عالمی رہنماؤں کے ایک ایسے فورم کے طور پر تصور کیا گیا ہے جس کے پاس مجموعی اور بالادست اختیارات ہوں گے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کے اراکین میں نہ کوئی خاتون شامل ہے اور نہ ہی کوئی فلسطینی، اگرچہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید تقرریاں کی جائیں گی۔
ایگزیکٹو بورڈ کی اہم شخصیات
سر ٹونی بلیئر – سابق برطانوی وزیرِ اعظم (1997–2007)، واحد غیر امریکی بانی رکن۔ 2003 کی عراق جنگ میں ان کے کردار کی وجہ سے ان کی تقرری متنازع ہے۔
مارکو روبیو – امریکی وزیرِ خارجہ اور ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی ایک مرکزی شخصیت۔
اسٹیو وِٹکوف – مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی؛ رئیل اسٹیٹ کے بڑے سرمایہ کار اور ٹرمپ کے قریبی ساتھی۔
جیرڈ کشنر – ٹرمپ کے داماد اور ماضی کے مشرقِ وسطیٰ مذاکرات کے اہم معمار۔
مارک روون – اپولو گلوبل مینجمنٹ کے ارب پتی سی ای او اور امریکی وزیرِ خزانہ کے سابق ممکنہ امیدوار۔
اجے بنگا – ورلڈ بینک کے صدر، بھارتی نژاد امریکی شہری، اور وسیع مشاورتی تجربے کے حامل۔
رابرٹ گیبریل – امریکی قومی سلامتی کے مشیر۔
اگرچہ وہ ایگزیکٹو بورڈ کا حصہ نہیں ہوں گے، تاہم اقوامِ متحدہ کے سابق مشرقِ وسطیٰ ایلچی نیکولے ملاڈینوف غزہ میں بورڈ آف پیس کے زمینی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ وہ غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے رکن ہوں گے اور NCAG کی نگرانی کریں گے، جو 15 رکنی فلسطینی تکنوکریٹک کمیٹی ہے جس کی قیادت فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث کر رہے ہیں۔
ایک تشویشناک عدم موجودگی
خاص طور پر قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ غزہ کی نگرانی کرنے والے ایگزیکٹو بورڈ میں کوئی مسلم نمائندگی موجود نہیں، حالانکہ غزہ کی آبادی کی بھاری اکثریت مسلمان ہے۔ اس سے یہ سنگین خدشات جنم لیتے ہیں کہ مسلم اکثریتی ممالک کو محض علامتی یا رسمی منظوری دینے کے کردار تک محدود کر دیا جائے گا، اور وہ ٹرمپ اور امریکہ کی قیادت میں تیار کیے گئے ایسے خاکے کی توثیق کریں گے جسے بہت سے لوگ بالآخر اسرائیل نواز سمجھتے ہیں۔