با جوڑ :شہید مولانا خان زیبؒ کا شمار خیبر پختونخوا کے اُن نادر اہلِ فکر و دانش میں ہوتا ہے جنہوں نے علم، شعور، دین، جمہوریت اور وسائلِ قدرت جیسے اہم موضوعات کو عوامی سطح پر نہایت سادہ مگر مدلل انداز میں پیش کیا۔ وہ ایک بلند پایہ عالمِ دین، کہنہ مشق لکھاری، صاحبِ مطالعہ دانشور اور نوجوان نسل کے سچے خیر خواہ تھے۔ ان کی تحریریں، تقاریر اور فکری مکالمہ اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ علم کو محض کتابوں تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔
میری ان سے پہلی ملاقات 2018 کے اوائل میں ضلع باجوڑ میں رڼا ملګري کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مطالعاتی حلقے میں ہوئی۔ اُس نشست میں وہ ابتدا میں سامعین میں شامل تھے، مگر ان کی خاموشی بھی ایک گہرے فکری وقار کی حامل تھی۔ بعد ازاں 2018 ہی میں ہمارے حجرہ میں ایک اور مطالعاتی نشست منعقد ہوئی، جس میں ڈاکٹر مہران وزیر نے مختلف سماجی اور فکری موضوعات پر لیکچر دیا۔ اسی نشست میں شہید مولانا خان زیبؒ نے بھی خطاب کیا، جو اپنی فکری پختگی، مضبوط دلائل اور حوالہ جاتی انداز کے باعث شرکاء کے لیے ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے نہایت وضاحت سے اس امر پر زور دیا کہ اسلام جمہوریت کے خلاف نہیں ہے، بلکہ مشاورت، عوامی رائے، عدل اور جوابدہی جیسے اصول اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہیں۔ ان کا موقف یہ تھا کہ اگر جمہوریت کو اخلاقی اقدار اور سماجی انصاف کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ اسلامی روح کے عین مطابق نظام بن سکتی ہے۔ یہی فکری ہم آہنگی انہیں خدائی خدمتگار تحریک اور پشتون قومی شعور سے جوڑتی ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ شہید مولانا خان زیبؒ روزانہ کی بنیاد پر لکھتے اور بولتے تھے۔ وہ اپنی تمام تر فکری اور جسمانی توانائی اسی مقصد کے لیے صرف کرتے رہے۔ ان کی ہر تحریر، ہر خطاب اور ہر گفتگو کا محور پشتون قوم، اس کی محرومیاں، اس کے دکھ درد اور ان مسائل کے قابلِ عمل حل ہوتے تھے۔ وہ وقتی شہرت یا رسمی خطابت کے قائل نہیں تھے، بلکہ مسلسل، تھکے بغیر اور پورے اخلاص کے ساتھ پشتون عوام میں شعور بیدار کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے تھے۔ ان کی سوچ ہمیشہ مسئلہ بیان کرنے سے آگے بڑھ کر حل تجویز کرنے تک جاتی تھی، جو انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے۔
اسی نشست کے بعد میرا ان سے رابطہ مسلسل رہا۔ وہ ایک شفیق استاد کی طرح میری علمی رہنمائی کرتے رہے۔ ایک موقع پر انہوں نے مجھے اپنے گاؤں مدعو کیا، جہاں وہ اپنی زمین پر زیتون کی شجرکاری کے خواہاں تھے۔ اس سلسلے میں میں نے محکمہ جنگلات کے افسران کے ہمراہ ان کا دورہ کیا۔ ان کی میزبانی نہایت محبت بھری اور خلوص سے بھرپور تھی۔ اس موقع پر انہوں نے مجھے اپنی کئی قیمتی کتابیں بطور تحفہ دیں، جو ان کی علم دوستی اور سخاوتِ علمی کا عملی اظہار تھا۔
شہید مولانا خان زیبؒ نہ صرف دینی علوم بلکہ جدید سماجی علوم پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے میری پی ایچ ڈی کی تعلیم کے بارے میں دریافت کرتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔ ایک موقع پر میں اس وقت حیران رہ گیا جب انہوں نے مجھے معاشیات کی معروف کتاب
“The Economy of the Word: Language, History, and Economics”
(مصنف: Keith Tribe)
کا حوالہ دیا۔ یہ وہی کتاب تھی جو میرے پی ایچ ڈی کے پہلے سمسٹر کے دوران میرے زیرِ مطالعہ رہی۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی موضوع پر بغیر حوالہ اور گہرے مطالعے کے گفتگو نہیں کرتے تھے۔ ان کی علمی وسعت اور بین الشعبہ مطالعہ واقعی غیر معمولی تھا، اور یہی وصف ان کے فکری قد کا تعین کرتا ہے۔
ان کی تصنیفات، بالخصوص کتاب “شتمنہ پختونخوا”، اس بات کی شاہد ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل، معدنیات، زراعت، جنگلات اور آبی ذخائر پر نہایت گہری نظر رکھتے تھے۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف وسائل کی نشاندہی کی بلکہ اس امر پر بھی زور دیا کہ اگر ان وسائل کو منصفانہ، شفاف اور مقامی آبادی کی شمولیت سے بروئے کار لایا جائے تو صوبہ خود کفالت کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
سیاسی طور پر وہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے وابستہ تھے، مگر ان کی سوچ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ عوام کی بات کرتے، عوام کے دکھ درد کو آواز دیتے اور پشتون معاشرے میں امن، شعور اور برداشت کے علمبردار رہے۔ وہ امن کے سچے داعی تھے اور اکثر سیاسی و سماجی اجتماعات میں سفید جھنڈا اپنے کندھے پر اٹھائے نظر آتے، جو ان کے امن پسند نظریے کی علامت تھا۔ سیاسی وابستگی کے باوجود وہ ہر فورم پر بلا تفریق عوام کے حقوق اور مسائل پر بات کرتے رہے۔
ایک موقع پر، جو آج بھی میرے دل و دماغ میں تازہ ہے، انہوں نے مجھ سے کہا:
“تم اپنے علم کو استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا، خصوصاً پشتونوں، کی محرومیوں، شعور کی کمی اور درپیش مسائل کے حل پر کیوں نہیں لکھتے، تاکہ یہ علم عام ہو اور لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں؟”
یہ جملہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک تعلیم محض ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ وہ اسے ایک اجتماعی اور سماجی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ وہ پشتون قوم کے بارے میں نہایت فکرمند تھے اور چاہتے تھے کہ تعلیم یافتہ طبقہ اپنی ذمہ داری ادا کرے۔
افسوس کہ ہم نے ایک عظیم مفکر، معلم اور امن کے علمبردار کو کھو دیا۔ شہید مولانا خان زیبؒ امن کی ایک مہم کے دوران شہید ہوئے، یوں انہوں نے اپنی جان بھی امن کے لیے قربان کر دی۔ بلاشبہ وہ امن کے لیے جئے اور امن ہی کے راستے میں شہادت کا رتبہ پایا۔
آخر میں، میں بالخصوص طلبہ، نوجوانوں اور اہلِ علم سے اپیل کرتا ہوں کہ شہید مولانا خان زیبؒ کی کتب کا مطالعہ کریں۔ ان کی تحریریں آج بھی دستیاب ہیں اور ان کے متعدد خطابات اور دروس سوشل میڈیا پر محفوظ ہیں۔ ان سے سیکھیں، ان کے افکار کو سمجھیں، کیونکہ ان کا اندازِ فکر، استدلال اور توضیح ایسا تھا جو شاید دوبارہ خیبر پختونخوا میں پیدا نہ ہو سکے۔ اگر ہم نے ان کے علم اور فکری ورثے سے استفادہ نہ کیا تو یہ ہماری اپنی کوتاہی ہو گی۔
اللہ تعالیٰ شہید مولانا خان زیبؒ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے فکر و فلسفے سے رہنمائی لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین