اسرائیل نے ایران[ ویب ڈیسک ]کے خلاف اپنی کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے دارالحکومت Tehran میں اہم سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق میزائل حملوں میں صدارتی محل اور حکومتی ہیڈکوارٹرز کو ہدف بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے کے وقت ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں پہلے ہی ایک خفیہ و محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کا منصوبہ کئی ہفتے قبل تیار کیا گیا اور اس میں ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا۔ قطری نشریاتی ادارے Al Jazeera کے مطابق تہران کے علاوہ Isfahan، Kermanshah اور Qom میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعض علاقوں میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق براہِ راست صدارتی محل کے قریب حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے تصادم کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔