اسلام آباد: “تریمت کتھا” کی تقریبِ رونمائی، نسائی ادب اور قومی زبانوں کا گلدستہ قرار

0

اسلام آباد (ویب ڈیسک): ادارہ فروغ قومی زبان کے زیراہتمام ڈاکٹر سعدیہ کمال کی کتاب “تریمت کتھا” کی تقریبِ رونمائی و پذیرائی اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما و سابق سینیٹر ڈاکٹر فرحت اللہ بابر نے کی جبکہ نظامت کے فرائض منیر فیاض نے انجام دیے۔

تقریب کے شرکا نے کتاب کو نسائی ادب، تہذیبوں کے ملاپ، مادری زبانوں کی اہمیت اور مزاحمتی ادب کی ترویج کا نمایاں اضافہ قرار دیا۔ افتتاحی کلمات میں ادارہ فروغ قومی زبان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ صحافت اور ادب کا رشتہ گہرا ہے اور ڈاکٹر سعدیہ کمال نے “تریمت کتھا” کے ذریعے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا ہے۔

صدارتی خطاب میں ڈاکٹر فرحت اللہ بابر نے کتاب کو “فیڈریشن کا ایک گلدستہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پدر سری معاشرے میں ایک صحافی، ادیبہ اور محققہ کے طور پر ڈاکٹر سعدیہ کمال کا سفر قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب ملک کی مختلف اکائیوں کو ایک فکری وحدت میں پیش کرتی ہے۔

اکادمی ادبیات پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ کتاب میں مرد و عورت کی تقسیم اور طاقتور و کمزور کرداروں کے تقابلی جائزے کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پانچ زبانوں کی خواتین افسانہ نگاروں کا مطالعہ اس تصنیف کو منفرد بناتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان سلیم مظہر نے اسے ادبی حلقوں کے لیے نئے مباحث کے دروازے کھولنے والی کاوش قرار دیا۔ سینئر صحافی مظہر عارف، ڈاکٹر حمیرا اشفاق، بلوچی محقق پناہ بلوچ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈاکٹر ضیا بلوچ اور نمل یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر صنوبر الطاف سمیت دیگر مقررین نے بھی کتاب کو قومی زبانوں اور نسائی ادب کے فروغ میں اہم سنگِ میل قرار دیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے ادارے “مہردر” سے اس کتاب کی اشاعت باعثِ فخر ہے۔

آخر میں مصنفہ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے تقریب کے انعقاد پر ادارہ فروغ قومی زبان کا شکریہ ادا کیا اور اپنے دس سالہ تحقیقی سفر کو ایک جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تحقیق کے ذریعے ظالم اور مظلوم کے فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ادبی و علمی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی

Leave A Reply

Your email address will not be published.