Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
لندن (ویب ڈیسک): برطانیہ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم لندن نے واضح کیا ہے کہ وہ براہِ راست حملوں میں شریک نہیں ہوگا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ امریکا کی جانب سے فوجی اڈے استعمال کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی ہے، لیکن برطانوی افواج ایران پر ہونے والے فضائی حملوں میں حصہ نہیں لے رہیں۔ ان کے بقول برطانیہ صرف دفاعی تعاون فراہم کر رہا ہے اور اس کا مقصد خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانوی فورسز کی سرگرمیاں دفاعی نوعیت تک محدود رہیں گی اور لندن کسی براہِ راست جارحانہ کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مشترکہ اور اتحادی مفادات کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تینوں ممالک نے ایران کے میزائل حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حملوں میں ایسے ممالک کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ابتدائی امریکی اور اسرائیلی کارروائی کا حصہ نہیں تھے۔
بیانات میں یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جبکہ سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہونے کا امکان ہے۔