وفاقی حکومت ملک بھر میں توانائی کی کھپت کم کرنے اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے آن لائن کلاسز اور ہائبرڈ ورک ماڈل متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ اقدامات قومی ایکشن پلان کا حصہ ہیں اور انہیں مارچ 2026 سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں میں جزوی طور پر آن لائن تدریس متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور کیمپس میں طلبہ کی جسمانی حاضری محدود کی جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام توانائی کے تحفظ کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر میں بھی لچکدار کام کے نظام پر غور جاری ہے۔ بالخصوص ٹیلی کام اور آئی ٹی شعبے کی متعدد کمپنیاں ملازمین کو ہفتے میں دو دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہیں۔
اسی طرح سرکاری دفاتر میں بھی ہائبرڈ ورک ماڈل اپنانے کی تجویز زیر بحث ہے، جس کے تحت صرف ضروری عملہ دفاتر میں موجود ہوگا جبکہ دیگر ملازمین اپنی ذمہ داریاں دور سے انجام دیں گے۔ دیگر تجاویز میں ملازمین کے لیے مشترکہ ٹرانسپورٹ کے انتظامات اور عوامی خدمات کو زیادہ سے زیادہ آن لائن منتقل کرنا شامل ہے تاکہ غیر ضروری آمد و رفت کم کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد توانائی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کے جدید اور لچکدار طریقوں کو فروغ دینا ہے۔ اسی نوعیت کے انتظامات ماضی میں کووڈ-19 وبا کے دوران بھی عارضی طور پر نافذ کیے گئے تھے۔
یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
ابھرتی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر قریبی نظر رکھے گی اور ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کم کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرے گی۔