ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کا ضیاع ہوگا کیونکہ تہران پہلے ہی اپنی عسکری صلاحیت کھو چکا ہے۔جمعہ کے روز ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے این بی سی نیوز سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایرانی بحریہ اور دیگر عسکری اثاثے پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں۔صدر ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے انتباہ کو معمولی قرار دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی افواج کا داخلہ حملہ آوروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ٹرمپ نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ وہاں جا کر ہر چیز کی جلد صفائی کریں اور کوئی ایسا شخص نہ ہو جو دوبارہ تعمیر میں 10 سال لگا دے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ذہن میں نئی قیادت کے لیے کچھ نام ہیں، تاہم کسی کا نام لینے سے گریز کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی کہ موجودہ آپریشن میں زمینی افواج شامل نہیں ہیں۔ترجمان کے مطابق امریکا ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر رہا ہے اور اب تک 2,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ مزید برآں، صدر ٹرمپ تنازع میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی میتوں کی واپسی کے موقع پر ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ تعزیت کے لیے تقریب میں شرکت کریں گے۔