شدید گرمی نے گردوں کی بیماری کو زندگی بھر کے چیلنج میں بدل دیا- ندیم خان

0

کوئٹہ: جنوبی ایشیا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ پاکستان، افغانستان اور بھارت میں شدید گرمی کی لہریں اب غیر معمولی واقعہ نہیں رہیں بلکہ ایک نیا معمول بنتی جا رہی ہیں۔ گرمیاں پہلے سے زیادہ طویل اور شدید ہوتی جا رہی ہیں۔ تاہم بہت سے لوگوں کے لیے یہ محض موسمیاتی اعدادوشمار نہیں بلکہ صحت مند رہنے کی روزمرہ جدوجہد بن چکی ہے۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل سے تعلق رکھنے والے تیس سالہ زین العابدین اس بدلتی صورتحال کی ایک مثال ہیں۔ وہ پولٹری کا کاروبار کرتے ہیں، مگر حالیہ مہینوں میں کمزوری، چکر آنا اور گردوں کے شدید درد نے ان کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا۔ کابل میں مقامی کلینک صرف بنیادی علاج فراہم کر سکتے تھے، جبکہ افغانستان کا صحت کا نظام، جو برسوں کے تنازعات سے کمزور ہو چکا ہے، پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
کابل میں گرمیوں کے دوران درجہ حرارت اکثر 38 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ جنوبی صوبوں جیسے قندھار کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، مگر شہر کے گنجان آباد علاقوں مثلاً دشت برچی میں بنیادی انفراسٹرکچر اور صاف پانی کی کمی صورتحال کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔
زین العابدین کہتے ہیں،“مجھے مسلسل چکر آتے تھے، کمزوری محسوس ہوتی تھی اور پیاس ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔ پھر کمر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ میں زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا تھا، کام کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ اس لیے کابل میں رہنا میرے لیے ممکن نہیں رہا۔”
اگرچہ اس وقت موسم نسبتاً معتدل ہے، مگر ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ شدید اور بار بار آ رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں زین جیسے افراد کو پانی کی کمی اور گردوں کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
علاج کے لیے سرحد پار سفر
سیکیورٹی خدشات کے باعث چمن بارڈر بند ہونے کی وجہ سے زین کو طویل سفر کرنا پڑا۔ وہ کابل سے اسلام آباد پرواز کے ذریعے پہنچے اور وہاں سے کوئٹہ آئے، جہاں ان کے کچھ رشتہ دار ہزارہ ٹاؤن میں مقیم ہیں۔

کوئٹہ پہنچنے پر انہیں بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرو یورولوجی کوئٹہ (BINUQ) میں داخل کیا گیا، جسے عام طور پر کڈنی سینٹر کہا جاتا ہے۔ یہ ادارہ ڈائیلاسز، تشخیصی سہولیات اور بعض صورتوں میں گردے کی پیوند کاری کی خدمات فراہم کرتا ہے اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ پڑوسی افغانستان سے آنے والے مریضوں کا بھی علاج کرتا ہے۔
اس ہسپتال کے وارڈ میں زین نے 62 سالہ مقامی رہائشی نصیر احمد کے ساتھ بستر شیئر کیا، جو گردوں کے شدید درد کے باعث وہاں داخل تھے۔ نصیر احمد کہتے ہیں،
“گرمی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ میں بھی شدید گردے کے درد کی وجہ سے یہاں آیا ہوں۔”
گرمی اور گردوں کی بیماری کا تعلق
BINUQ اور بولان میڈیکل کمپلیکس (BMC) کے ڈاکٹروں کے مطابق شدید گرمی کی لہروں کے دوران گردوں کی شدید چوٹ (Acute Kidney Injury) اور دائمی گردوں کی بیماری (Chronic Kidney Disease) کے مریضوں کی تعداد اکثر دوگنی ہو جاتی ہے۔
شدید گرمی اور پانی کی کمی گردوں کو زیادہ محنت کرنے پر مجبور کرتی ہے، جس سے بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
بولان میڈیکل کمپلیکس میں خدمات انجام دینے والے افغان نیفرولوجسٹ ڈاکٹر نبی کا کہنا ہے،
“گرمی سرحدوں کا احترام نہیں کرتی اور نہ ہی بیماری۔ بہت سے مریض اس وقت ہسپتال پہنچتے ہیں جب ان کی حالت تشویشناک ہو چکی ہوتی ہے، کیونکہ افغانستان اور سرحدی علاقوں کے کلینک ہنگامی صورتحال میں جدید طبی سہولیات فراہم نہیں کر سکتے۔”
موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا خطرہ
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی گرمی کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ پاکستان میں شدید گرمی کو گردوں سے متعلق بیماریوں میں اضافے سے جوڑا جا رہا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق شدید گرمی کے دوران گردوں کی شدید اور دائمی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو کھلے ماحول میں کام کرتے ہیں اور ناقص معیار کے پانی تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی سے ستمبر کے دوران ہسپتالوں میں گردوں کے مریضوں کی تعداد اکثر دوگنی ہو جاتی ہے۔ افغانستان میں بھی اسی طرح کے خطرات موجود ہیں، جہاں شدید گرمی، پانی کی کمی اور صحت کی سہولیات کی محدود دستیابی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
آگاہی اور اقدامات کی ضرورت
BINUQ کے شعبہ نیفرو لوجی کے سربراہ ڈاکٹر محکم الدین کے مطابق،
“گرمی کی لہریں اور پانی کی کمی پورے خطے میں گردوں کے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ زیادہ تر مریض ہسپتال دیر سے پہنچتے ہیں کیونکہ عوامی آگاہی کم ہے اور ابتدائی طبی سہولیات محدود ہیں۔”
ان کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی مہمات، موبائل کلینکس اور ہائیڈریشن پروگراموں کی فوری ضرورت ہے۔
بقا کی جدوجہد
زین جیسے مریضوں کے لیے اصل چیلنج صرف گرمی نہیں بلکہ صحت کی سہولیات تک رسائی بھی ہے۔ سرحدی پابندیاں، سیکیورٹی خدشات اور سفر کے اخراجات علاج کو ایک مشکل اور پرخطر سفر بنا دیتے ہیں۔
ڈاکٹر نبی کہتے ہیں، “تنازعات سڑکوں اور سرحدوں کو بند کر دیتے ہیں، لیکن مریض بہتر علاج کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں کیونکہ افغان صحت کا نظام پیچیدہ بیماریوں کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔”
زین العابدین کا علاج اب انہیں کچھ حد تک مستحکم کر چکا ہے، مگر ان کا مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کی کہانی اس بڑے انسانی بحران کی عکاسی کرتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہے — ایسے خاندان جو علاج کے لیے سرحدیں عبور کرنے پر مجبور ہیں اور کمیونٹیز جو بڑھتی گرمی کے خطرات سے مسلسل نبرد آزما ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو کوئٹہ اور پورے جنوبی ایشیا کے ہسپتالوں کو مستقبل میں گردوں کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈاکٹر محکم الدین کے الفاظ میں،“موسمیاتی تبدیلی صرف موسم کو گرم نہیں کر رہی، بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے ایک نیا اور سنگین بحران بھی پیدا کر رہی ہے۔”

Leave A Reply

Your email address will not be published.