تہران: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ماہرین کی اسمبلی نے کیا جس کے بعد ایران کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں نے ان کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسلح افواج کی قیادت نے ماہرین کی اسمبلی کی جانب سے انتخاب کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے بھی نئی مذہبی اور سیاسی قیادت کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کی پیروی کے لیے تیار ہیں۔
دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے قوم پر زور دیا کہ وہ نئے سپریم لیڈر کے پیچھے متحد ہو جائے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کی اطاعت تمام شہریوں کا مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق 88 رکنی ماہرین کی اسمبلی نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا ہے۔ اسمبلی نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اتحاد برقرار رکھے کیونکہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
ٹرمپ کا ردعمل
اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ایرانی سپریم لیڈر کے اقتدار کے استحکام پر سوال اٹھائے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے”، اور اشارہ دیا کہ ایران میں قیادت کی منتقلی کے معاملے میں امریکہ کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ نے منظوری نہ دی تو نیا سپریم لیڈر زیادہ دیر تک اقتدار میں برقرار نہیں رہ سکے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران ممکنہ طور پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے تنازع کو ختم کر سکتا ہے۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ
یہ قیادت کی منتقلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران اور پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
اس سے قبل بھی ٹرمپ مجتبیٰ خامنہ ای کو کمزور اور ناقابل قبول امیدوار قرار دے چکے ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے جانشینی کے عمل کو متاثر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ نئی ایرانی قیادت ممکنہ خطرات کا سامنا کر سکتی ہے کیونکہ تہران اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
تاہم ان انتباہات اور جاری علاقائی بحران کے باوجود ماہرین کی اسمبلی نے کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ مذہبی ادارے کے مطابق جانشینی کے عمل کو حتمی شکل دینے میں اسے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی، جبکہ اس صورتحال کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔