ایران، امریکہ اور اسرائیل تنازعہ:پاکستان کیوں محتاط ہے؟

اشتیاق احمد

1

بریڈفورڈ:مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس تنازعے کے تناظر میں پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ذہنوں میں ایک اہم سوال گردش کر رہا ہے: اس بحران پر پاکستان کا واضح مؤقف کیا ہے؟
بہت سے مبصرین کو پاکستان کی پالیسی قدرے محتاط اور مبہم دکھائی دیتی ہے۔

عوامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر پاکستان کی قیادت کھل کر ان اقدامات کی مذمت کیوں نہیں کر رہی؟
اسی طرح اگر پاکستان امریکی یا اسرائیلی موقف کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے تو وہ واضح اور دوٹوک پالیسی اختیار کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟
یہ سوالات اس وقت مزید اہم ہو جاتے ہیں جب پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مختلف علاقائی اور عالمی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جائے۔
معاشی مجبوری اور امریکی اثر
سب سے پہلی اور اہم وجہ پاکستان کی معاشی صورتحال ہے۔ ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے پروگرام پر انحصار کر رہا ہے۔ اس پس منظر میں امریکہ کی حمایت پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے واشنگٹن سے فاصلے پیدا کرنا آسان نہیں۔ عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد یہ بھی جانتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کسی بھی وقت سفارتی یا معاشی مشکلات کو جنم دے سکتا ہے۔
اسی تناظر میں بعض مبصرین پاکستان کی جانب سے امریکی قیادت کے لیے نرم سفارتی اشاروں کو ایک عملی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مقصد بظاہر یہی ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو۔
خلیجی اتحادیوں کا کردار
پاکستان کی خارجہ پالیسی پر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی گہرا اثر رکھتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر پاکستان کے اہم شراکت دار ہیں اور عمومی طور پر انہیں امریکہ کے قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب نے ماضی میں کئی مواقع پر پاکستان کی مالی مدد کی ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی روزگار حاصل کیے ہوئے ہیں۔ ان محنت کشوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہیں۔
ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے ایسی پالیسی اپنانا مشکل ہو جاتا ہے جو ان اتحادیوں کے موقف سے مکمل طور پر متصادم ہو۔
ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات
دوسری جانب ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ سرحدی قربت اور علاقائی جغرافیہ بھی اس تعلق کو اہم بناتے ہیں۔
پاکستان کے اندر شیعہ آبادی کی قابلِ ذکر موجودگی بھی ایک حساس عنصر ہے۔ اگر پاکستان ایران کے خلاف کھلم کھلا سخت موقف اختیار کرتا ہے تو اس کے اندرونی سماجی اور مذہبی توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے اسلام آباد کوشش کرتا ہے کہ تہران کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھا جائے اور کسی ایسی پالیسی سے گریز کیا جائے جو داخلی کشیدگی کو ہوا دے۔
چین کے ساتھ تزویراتی شراکت
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی اسٹریٹجک اتحادی ہے بلکہ اقتصادی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں بھی اہم شراکت دار ہے۔
چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کے پیش نظر پاکستان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں بیجنگ کے ساتھ ہم آہنگی کو برقرار رکھے۔ اس لیے پاکستان کسی ایسے تنازعے میں کھل کر فریق بننے سے گریز کرتا ہے جس سے علاقائی توازن متاثر ہو سکتا ہو۔
محتاط سفارت کاری کی ضرورت
ان تمام عوامل کو مدِنظر رکھا جائے تو پاکستان کی محتاط اور بظاہر مبہم پالیسی دراصل ایک پیچیدہ سفارتی توازن کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلق اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری۔
ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے علاقائی کشیدگی سے خود کو دور رکھے۔
مشرقِ وسطیٰ کے اس پیچیدہ بحران میں پاکستان شاید یہی کوشش کر رہا ہے کہ کسی ایک فریق کے ساتھ کھل کر صف بندی کے بجائے ایک محتاط سفارتی راستہ اختیار کیا جائے—ایک ایسا راستہ جو بیک وقت اس کے معاشی، تزویراتی اور داخلی مفادات کو محفوظ رکھ سکے۔

1 Comment
  1. Saleem Raza says

    اشتیاق احمد صاحب کا یہ مضمون موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں پاکستان کی محتاط حکمتِ عملی کو مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے۔

    مضمون کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ مصنف نے پاکستان کی پالیسی کو صرف ایک سادہ مؤقف کے طور پر نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سفارتی توازن کے طور پر پیش کیا ہے۔ پاکستان کی معاشی کمزوری، آئی ایم ایف پر انحصار، امریکہ کے ساتھ تعلقات، خلیجی ممالک سے اقتصادی وابستگی، ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری—یہ تمام عوامل واقعی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے مضمون حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتا ہے۔

    تاہم اس بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر مزید روشنی ڈالی جا سکتی تھی۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور ایک اہم مسلم ملک ہونے کے ناطے بعض مواقع پر واضح اور اصولی مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگرچہ سفارتی توازن ضروری ہے، لیکن بعض حالات میں ضرورت سے زیادہ ابہام عوام میں بے یقینی پیدا کر سکتا ہے۔

    اسی طرح مضمون میں یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ ردِعمل پر مبنی رہنی چاہیے یا اسے زیادہ فعال اور خودمختار کردار ادا کرنا چاہیے۔ خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں پاکستان کے لیے یہ ایک اہم بحث ہے۔

    مجموعی طور پر یہ مضمون ایک اہم موضوع کو متوازن انداز میں پیش کرتا ہے اور قارئین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ پاکستان کی محتاط پالیسی محض کمزوری نہیں بلکہ مختلف علاقائی اور عالمی دباؤ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ایک سفارتی حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.