کوئٹہ:پنجگور میں سورج نکلنے سے پہلے ہی زندگی جاگ اٹھتی ہے۔ جیسے ہی صبح کی روشنی مٹیالے پہاڑوں پر پھیلتی ہے، 32 سالہ رحیمہ بلوچ اپنے دن کا آغاز کر دیتی ہیں۔ دوپہر تک درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، اس لیے انہیں صبح سویرے ہی دور دراز کے کنویں سے پانی لانا پڑتا ہے۔
چار بچوں کی ماں رحیمہ کی زندگی مسلسل جدوجہد کی کہانی بن چکی ہے۔
برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر کر دیا ہے، مویشی کمزور ہو چکے ہیں اور وہ خود بھی غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ صرف ان کی کہانی نہیں بلکہ بلوچستان کے ہزاروں دیہی گھرانوں کی مشترکہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
ہر روز وہ اپنے گھر کے قریب واقع کنویں سے پانی لا کر اپنی دو گائیوں کو پلاتی ہیں، پھر شدید گرمی بڑھنے سے پہلے بچوں کے لیے کھانا تیار کرتی ہیں۔ اپنے کچے گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی وہ اپنی زندگی کی تھکن اور بے بسی کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔
“کبھی کبھی مجھے بہت کمزوری اور چکر آتے ہیں،” وہ آہستہ سے کہتی ہیں۔ “زمین خشک ہے اور صاف پانی بہت کم ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے جانور بھی کمزور ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ میں غذائی قلت کا شکار ہوں۔”
رحیمہ کی کہانی بلوچستان کے دیہی علاقوں میں تیزی سے عام ہوتی جا رہی ہے، جہاں مسلسل خشک سالی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور گہری غربت خاموشی سے لوگوں کو بھوک اور غذائی کمی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ایسے خاندان جو اپنی روزی روٹی کے لیے چھوٹے کھیتوں یا مویشیوں پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے ایک خراب موسم بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
بڑھتی گرمی اور بدلتا موسم
رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان پہلے ہی کم بارشوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں موسم مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔ پنجگور، کیچ اور چاغی جیسے مغربی اضلاع میں گرمیوں کے دوران درجہ حرارت اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جاتا ہے، جبکہ گرمی کی لہریں کھیتی باڑی اور روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔
چاغی، خاران، واشک، کیچ اور پنجگور کے کسان کہتے ہیں کہ بارشوں کا نظام تیزی سے بدل رہا ہے۔ وہ کھیت جو کبھی گندم سے بھر جاتے تھے، اب کٹائی سے پہلے ہی سوکھ جاتے ہیں۔ کھجور کے باغات کم پھل دیتے ہیں اور سبزیاں شدید گرمی میں جلد مرجھا جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بارشوں کے انداز میں تبدیلی موسمیاتی تبدیلیوں کی واضح علامت ہے، جس کے باعث صوبے میں خشک سالی مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ اس کا براہ راست اثر خوراک کی پیداوار پر پڑ رہا ہے اور غذائی قلت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
مویشی اور چراگاہوں کا بحران
دیہی بلوچستان میں مویشی پالنا بھی روزگار کا اہم ذریعہ ہے، مگر خشک سالی نے اس شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ چراگاہوں کی کمی اور پانی کی قلت نے مویشی پالنے والوں کے لیے حالات مشکل بنا دیے ہیں۔
فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے جائزوں کے مطابق جنوبی بلوچستان میں 25 فیصد سے زائد مویشی طویل خشک سالی سے متاثر ہو چکے ہیں۔
بلوچستان کے محکمہ ماحولیات کے ماہر ولی خلجی کے مطابق طویل خشک سالی اور شدید گرمی صوبے بھر میں فصلوں اور چراگاہوں کو متاثر کر رہی ہے۔
“دیہی علاقوں میں بہت سے خاندان اپنی بقا کے لیے کھیتی باڑی یا مویشیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جب یہ نظام ناکام ہو جاتے ہیں تو ان کے پاس خوراک حاصل کرنے کے بہت کم راستے بچتے ہیں۔”
زیادہ تر دیہی گھرانے چھوٹے فارموں پر انحصار کرتے ہیں جہاں گندم، کھجور اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ تاہم کم بارش اور محدود آبپاشی کے باعث پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ایف اے او کے مطابق بار بار خشک سالی کے باعث جنوبی اضلاع میں گندم کی پیداوار میں 30 سے 40 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔
غذائیت کا بڑھتا ہوا بحران
ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اس کے اثرات خاص طور پر خواتین اور بچوں میں واضح ہو رہے ہیں۔
بلوچستان میں غذائی قلت پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 50 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد سے زیادہ بچوں کا وزن کم ہے۔ ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جسے ماہرین صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیتے ہیں۔
مزید یہ کہ پانچ سال سے کم عمر کے نصف سے زیادہ بچوں میں نشوونما رک جانے کی علامات پائی جاتی ہیں، جو طویل مدتی غذائیت کی کمی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
کوئٹہ کی صحت عامہ کی ماہر ڈاکٹر فرح ناز کے مطابق موسمیاتی دباؤ پہلے سے موجود غذائی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
“جب خشک سالی خوراک کی پیداوار کو کم کر دیتی ہے تو خاندان غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ غربت کے باعث بازار سے خوراک خریدنا بھی مشکل ہو جاتا ہے،” وہ بتاتی ہیں۔
ان کے مطابق اکثر مائیں اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے اپنی غذائیت قربان کر دیتی ہیں۔
“ہم اکثر ایسی ماؤں کو دیکھتے ہیں جو انتہائی کمزور ہوتی ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کو ترجیح دیتی ہیں۔”
ایک خاندان کی روزمرہ جدوجہد
رحیمہ کی زندگی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سال ناکام بارشوں کے باعث ان کے چھوٹے کھجور کے فارم سے تقریباً کوئی پیداوار نہیں ہوئی۔ ان کی گائیں بھی بہت کم دودھ دیتی ہیں اور بازار سے خوراک خریدنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
“کچھ دن ہمارے پاس صرف چائے اور روٹی کے چند ٹکڑے ہوتے ہیں،” وہ آہستگی سے کہتی ہیں، آنکھوں میں نمی لیے۔
اس کے باوجود وہ کوشش کرتی ہیں کہ پہلے بچوں کو کھانا ملے۔
“اگر تھوڑا سا کھانا ہو تو میں پہلے انہیں دیتی ہوں۔”
یہ بحران صرف پنجگور تک محدود نہیں۔ قریبی ضلع نوشکی میں طویل خشک سالی کے باعث کئی خاندان اپنے زیادہ تر مویشی کھو چکے ہیں۔ جانوروں کے بغیر وہ نہ صرف آمدنی بلکہ غذائیت کا اہم ذریعہ بھی کھو دیتے ہیں۔
مقامی صحت کے کارکنوں کے مطابق ایسے علاقوں میں غذائی قلت کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحول کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا چیلنج بھی بنتی جا رہی ہے۔