کراچی ملک کا وہ شہر ہے جو ایک طرف ریاست کی معاشی ضروریات پوری کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، تو دوسری طرف اپنی متنوع آبادی، بے شمار کچی آبادیوں اور بے ہنگم تعمیرات کے باعث انتظامی طور پر ملک کا مشکل ترین شہر بھی سمجھا جاتا ہے۔اسی وجہ سے مسلسل پھیلتے اس بڑے شہر کو محکمہ پولیس کے لیے بھی دیگر شہروں کی نسبت سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کراچی جیسے شہر میں اگر مناسب انفرااسٹرکچر موجود نہ ہو تو اس کا براہ راست اثر جرائم کی شرح اور امن و امان کی صورتحال پر پڑتا ہے۔مختلف ادوار میں تعینات ہونے والے آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف نے سیاسی اور انتظامی مشکلات کے باوجود شہر میں امن و امان بہتر بنانے کی کوششیں کیں۔ ان اقدامات پر بعض اوقات تنقید بھی ہوئی اور تعریف بھی کی گئی۔کراچی میں پولیس کو اپنی ساکھ بہتر بنانے کا دباؤ بھی مسلسل درپیش رہتا ہے کیونکہ ماضی میں بدعنوان اہلکاروں اور افسران کی موجودگی کےباعث پولیس کو تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر شہروں میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کراچی پولیس میں اصلاحات کے اقدامات لاہور کی نسبت دیر سے شروع ہوئے۔ ان اصلاحات میں پولیس تھانوں کی حالت بہتر بنانا بھی شامل ہے۔ ماضی میں مختلف آئی جیز نے شہر کے تھانوں کی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کی اور روایتی نظام کو بدلنے کے لیے ماڈل تھانوں کا تصور متعارف کرایا۔