اسلام آباد (ویب ڈیسک): وفاقی حکومت نے توانائی بحران کے خدشات اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کفایت شعاری پلان کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن کی طرف سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق:
-
60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ ہوں گی، اور 50 فیصد تیل کی بچت کی جائے گی۔
-
نجی اور سرکاری دفاتر میں 3 دن کی ہفتہ وار چھٹی ہوگی۔
-
شادی کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود ہوگی اور صرف ایک ڈش پیش کی جائے گی۔
-
صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قومی یکجہتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی طرح کے اقدامات کریں۔
-
سڑکوں کی رفتار کی حد کم کی گئی: موٹرویز پر 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہائی ویز پر 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
-
تمام اسکول 16 مارچ سے 31 مارچ تک بہار کی تعطیلات کے لیے بند رہیں گے جبکہ امتحانات معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔
-
کالیجز اور یونیورسٹیاں آن لائن کلاسز منعقد کریں گی۔
-
سرکاری اداروں میں چار دن کی چھٹی ہوگی، جبکہ بینک اور ضروری خدمات فراہم کرنے والے ادارے اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
-
نجی شعبے میں 50 فیصد عملہ گھر بیٹھ کر کام کرے گا اور چار دن کی چھٹی ہوگی، بینکاری، صنعتی اور زرعی شعبے مستثنیٰ رہیں گے۔
-
کابینہ اراکین، پارلیمنٹریز اور سرکاری عہدیداروں کے تمام بیرونی دوروں پر پابندی ہوگی، اور ضروری دوروں میں سفر صرف اکانومی کلاس میں ہوگا۔
-
وفاقی اور صوبائی وزراء و مشیران دو ماہ کی تنخواہ اور الاونسز رضاکارانہ طور پر چھوڑیں گے، جبکہ اسمبلی کے ممبران کی تنخواہ اور الاونسز میں 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔
-
3 لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ لینے والے گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران دو دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر چھوڑیں گے۔
-
سرکاری گاڑیوں کے تیل میں 50 فیصد کمی ہوگی اور دو ماہ کے لیے 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کی جائیں گی۔
یہ اقدامات توانائی کے استعمال میں کمی اور ملک میں توانائی بحران کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔