اٹک: ضلع اٹک میں غیر قانونی شکار اور پرندوں کی غیر قانونی تجارت کے خلاف سخت کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 2 لاکھ 5 ہزار روپے کے جرمانے وصول کر لیے۔حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ضلع کی مختلف تحصیلوں جن میں غیر قانونی شکار کرنے والوں اور پرندوں کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کے خلاف کی گئیں۔کارروائی کے دوران کئی پرندے برآمد کیے گئے جن میں تیتر، بٹیر اور مور شامل ہیں۔ محکمہ جنگلی حیات نے ان پرندوں کو محفوظ کرنے کے بعد ان کے قدرتی مسکن میں واپس چھوڑ دیا۔حکام کے مطابق تحصیل جنڈ میں ایک شخص کو چھ تیتر رکھنے پر 50 ہزار روپے جبکہ ایک اور شخص کو مور رکھنے پر 35 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔اسی طرح حضرو اور پنڈی گھیب میں غیر قانونی شکار کے جال لگانے پر بالترتیب 30 ہزار اور 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ جبکہ فتح جنگ میں ایک سیاہ تیتر بھی بازیاب کیا گیا جس کے مالک کو 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔محکمہ جنگلی حیات کے حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں باقاعدگی سے جاری رہیں گی اور غیر قانونی شکار کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ایک اہلکار کے مطابق، “ہم پاکستان کے قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور غیر قانونی شکار میں ملوث افراد کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”ماہرین ماحولیات نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف سخت نفاذ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور نایاب انواع کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔