کراچی (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 4 بحری جہاز پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہو گئے ہیں، جس کے بعد ملک میں مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کے وافر ذخائر دستیاب ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق ‘ARIES’ نامی جہاز کے ذریعے 11 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کی گئی، جبکہ ‘اٹلانٹک’ اور ایک اور جہاز کے ذریعے 12، 12 ہزار میٹرک ٹن گیس پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘ULLSWATER’ نامی جہاز 3700 ٹن اور ‘MD23’ نامی جہاز 3500 ٹن ایل پی جی لے کر بھی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے۔
عرفان کھوکھر کا کہنا تھا کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 225 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم گیس مافیا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور عالمی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر عوام سے 350 سے 400 روپے فی کلو وصول کر رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت میں 200 ڈالر فی ٹن اضافہ ہوا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث بحری کرایوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے کنسائمنٹس کی آمد سے آئندہ دنوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں واضح کمی واقع ہوگی۔