اسلام آباد ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کی کھڑکیوں کی ٹنٹنگ کے حوالے سے قوانین کی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑیوں کی پچھلی کھڑکیوں پر 40 سے 50 فیصد تک ٹنٹ کی اجازت ہے، جبکہ سامنے کی کھڑکیاں سیکیورٹی اور شناخت کے مقاصد کے لیے مکمل طور پر صاف رکھنا لازمی ہوگا۔ٹریفک پولیس حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو قانونی اور غیر قانونی ٹنٹ کے درمیان واضح فرق سمجھانے میں مدد دینا ہے۔حمزہ، چیف ٹریفک آفیسر (CTO)، نے کہا کہ سامنے کی کھڑکیوں کی واضح نمائش ٹریفک کنٹرول اور سیکیورٹی چیک کے لیے ضروری ہے، اس لیے ان پر کسی بھی قسم کا رنگ یا فلم لگانا قانوناً ممنوع ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ زیادہ تر گاڑیاں فیکٹری سے ہلکی ٹنٹ کے ساتھ آتی ہیں جبکہ مکمل سیاہ کھڑکیاں شاذ و نادر ہی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی گاڑی میں فیکٹری سے ٹنٹ موجود ہو تو اس کے لیے Ministry of Interior Pakistan کی جانب سے جاری کردہ درآمدی دستاویزات انسپکشن کے دوران دکھانا ضروری ہوگا۔
سی ٹی او حمزہ نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس قوانین پر عمل درآمد کراتی ہے مگر گاڑیوں کی کھڑکیاں توڑنے یا ہٹانے کا اختیار استعمال نہیں کرتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سامنے کی کھڑکیوں پر ٹنٹ شیٹس یا فلمیں لگانے کی اجازت نہیں ہے۔
حکام کے مطابق یہ قوانین ڈرائیورز کی پرائیویسی اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جرمانے سے بچنے کے لیے ان ضوابط پر عمل کریں۔