پاکستان کو روس کی جانب سے رعایتی تیل کی پیشکش، باضابطہ رابطے کا انتظار

0

پاکستان کو بڑھتے ہوئے عالمی توانائی بحران کے دوران روس کی جانب سے رعایتی تیل کی فراہمی کی پیشکش کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں تعینات روسی سفیر البرٹ خوریف نے کہا ہے کہ ماسکو اس حوالے سے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم اس کے لیے پاکستان کی جانب سے باضابطہ رابطہ ضروری ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سفیر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کا شعبہ دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم ستون ہے، اور اس میں پیش رفت کا انحصار پاکستان کی پہل پر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ میںکشیدگی کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت رکنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

اس تناظر میں پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کر دیا ہے، جسے حکومتی وزراء نے عارضی قرار دیا ہے۔روسی سفیر نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات کو غیر متوقع قرار دیا اور کہا کہ موجودہ صورتحال پیچیدہ ہے اور اس کے خاتمے کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

انہوں نے ایران میں ایک اسکول پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور تمام فریقین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ سفیر نے زور دیا کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارتی ذرائعاوراقواممتحدہ کے چارٹر کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔روسی ایلچی نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف طاقت کےاستعمالسے نہ صرف بحران میں شدت آئی ہے بلکہ اسلامی دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.