تہران: ایران نے اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک منفرد دفاعی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے جسے “موزیک ڈیفنس” کہا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد فوجی طاقت کو ایک مرکز تک محدود رکھنے کے بجائے پورے ملک میں پھیلا دینا ہے تاکہ کسی بھی بڑے حملے کی صورت میں نظام مکمل طور پر مفلوج نہ ہو۔یہ تصور اسلامی انقلابی گارڈ کور کے سابق کمانڈر محمد علی جعفری نے پیش کیا تھا۔ اس کے تحت ، بسیج فورس، باقاعدہ فوج، میزائل یونٹس اور بحریہ کو ایک مربوط مگر خودمختار نیٹ ورک کی شکل دی گئی ہےاس نظام کے مطابق ایران کے تمام 31 صوبوں میں کی مقامی کمانڈز قائم ہیں، جنہیں انٹیلیجنس، ہتھیاروں اور آپریشنز کے حوالے سے خاصی خودمختاری حاصل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرکزی کمانڈ کو نقصان بھی پہنچے تو مقامی یونٹس آزادانہ طور پر دفاعی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔عسکری ماہرین کے مطابق “موزیک ڈیفنس” کا مقصد دشمن کے لیے ایران کی دفاعی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا تقریباً ناممکن بنانا ہے۔ یہ حکمت عملی ملک کو ایک ایسے نیٹ ورک میں بدل دیتی ہے جہاں ہر حصہ الگ ہو کر بھی مجموعی دفاع کا حصہ رہتا ہے۔حالیہ کشیدگی اور ٹارگٹ حملوں، جن میں علی لاریجانی جیسے اہم رہنما کو نشانہ بنایا گیا، کے باوجود ایران کا کہنا ہے کہ اس کا نظام شخصیات پر نہیں بلکہ مضبوط اداروں پر قائم ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق اس حکمت عملی کی بدولت ریاستی ڈھانچہ مستحکم اور فعال رہتا ہے۔ماہرین کے نزدیک “موزیک ڈیفنس” ایران کو نہ صرف عسکری لحاظ سے لچکدار بناتا ہے بلکہ اسے طویل مدتی تنازعات میں بھی مضبوطی سے کھڑا رہنے کے قابل بناتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر پڑتا ہے۔