ثناء یوسف قتل کیس: والد کا بیان ریکارڈ، مزید گواہ طلب

0

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف کے قتل کیس کی سماعت ہوئی، جس میں مقتولہ کے والد نے عدالت کے سامنے اہم بیان ریکارڈ کرا دیا۔ سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے والد نے بتایا کہ وہ جی 13 اسلام آباد میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور ان کی بیٹی سوشل میڈیا پر کافی معروف تھی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے وقت وہ گھر سے باہر تھے، جبکہ شام کو ان کی اہلیہ نے فون پر اطلاع دی کہ نامعلوم حملہ آور نے ان کی بیٹی کو گولی مار دی ہے۔ زخمی حالت میں اسے فوری ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی۔

والد کے مطابق پولیس نے ان کا بیان ریکارڈ کیا، مقتولہ کا موبائل فون تحویل میں لیا اور جائے وقوعہ کی رپورٹ بھی مرتب کی، جبکہ لاش کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا۔

سماعت کے دوران وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی پر عدالت نے کارروائی جاری رکھنے کے لیے سرکاری وکیل مقرر کیا تاکہ مقدمے میں تاخیر نہ ہو۔ پراسیکیوٹر نوید کیانی نے مؤقف اختیار کیا کہ وکیلِ صفائی کارروائی کو طول دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

عدالت کے حکم پر ریاستی وکیل طارق خان نے ایک گواہ پر جرح کی، جبکہ مقتولہ کے والد کا بیان بھی باضابطہ طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید گواہوں کو طلب کر لیا ہے۔ استغاثہ اب تک 23 گواہوں کے بیانات پیش کر چکا ہے جبکہ مزید شواہد کے ساتھ کیس کی سماعت جاری رہے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.