واشنگٹن: امریکی خبر رساں ایجنسی بلومبرگ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اب تک مجموعی طور پر 16 امریکی جنگی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جس سے خطے میں امریکی افواج کے بڑھتے ہوئے نقصانات واضح ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تباہ ہونے والے طیاروں میں 10 ریپر اسٹرائیک ڈرون شامل ہیں، جبکہ مزید چھ امریکی جنگی طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تین طیارے کویت کے اوپر گر گئے، مبینہ طور پر دوستانہ آگ کے واقعات کے باعث۔ ایک KC-135 ٹینکر طیارہ ایندھن بھرنے کے دوران تباہ ہوا، جس میں عملے کے چھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ سعودی عرب کے ہوائی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں میں مزید پانچ KC-135 طیارے بھاری نقصان اٹھانے پر مجبور ہوئے۔
بلومبرگ کے مطابق ایران اب تک نو امریکی ریپر ڈرونز تباہ کر چکا ہے، جن میں سے ایک کو اردن میں بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ تمام نقصانات امریکی فضائی افواج کے لیے بڑھتے ہوئے چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں، کیونکہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت آ رہی ہے اور تنازعہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتا جا رہا ہے۔
’مڈ نائٹ ہتھوڑا‘ آپریشن
امریکی دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ آپریشن ’مڈ نائٹ ہیمر‘ کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد سات B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے مسوری میں اپنے ایئر بیس پر واپس آئے۔ اس آپریشن میں 125 طیارے اور آبدوزیں شامل تھیں، جن میں چوتھی اور پانچویں نسل کے جنگی طیارے بھی شامل تھے، اور ایران کے فردو، نتنز اور اصفہان کے جوہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق، حملوں نے نامزد تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جبکہ ٹوماہاک میزائل اصفہان میں مارے گئے۔ جنرل ڈین کین، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، نے کہا کہ ایرانی دفاعی نظام کو الجھانے کے لیے متعدد طیارے اڑائے گئے، لیکن صرف سات B-2 بمبار طیارے براہِ راست حملے کے لیے استعمال ہوئے۔
یہ حملے امریکہ-ایران-اسرائیل تنازعہ میں ڈرامائی اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پیشکشیان نے اس کارروائی کی مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ امریکہ نے اسرائیل کی ناکامی کے بعد مداخلت کی۔ ایرانی میڈیا نے بھی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایران کو آپریشن کی پیشگی اطلاع تھی، جس میں خطے میں تناؤ اور پیچیدہ سفارت کاری نمایاں رہی۔
آپریشن ’مڈ نائٹ ہیمر‘ امریکی فضائی طاقت کی رسائی اور درستگی کو واضح کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار اب مخالف علاقے کے اندر اعلیٰ اہمیت والے مقامات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ کو خطے میں ممکنہ جوابی کارروائی اور ایران کے جوہری انفراسٹرکچر پر امریکی حملوں کے وسیع اثرات کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔