ماں بولی: ہماری پہچان کی بنیاد

تحریر:اشتیاق احمد

0

دعالمی سطح پر ہر سال 21 فروری کو مادری زبانوں کے تحفظ اور بقا کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ تہذیب، شناخت اور تاریخ کا جیتا جاگتا حصہ ہے-
ماں بولی، یا مادری زبان، وہ پہلی صدا ہے جو ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں سنتا اور سیکھتا ہے۔ یہی اس کی ابتدائی پہچان، اس کا پہلا وسیلۂ اظہار اور اس کی پہلی دنیا ہوتی ہے۔ اسی زبان کے ذریعے وہ خاندانی ماحول، رہن سہن کی قدریں، محبت کے انداز، اور معاشرتی رشتوں کی نزاکتیں سیکھتا ہے۔

ماں بولی محض گفتگو کا ذریعہ نہیں؛ یہ صدیوں پر مبنی تہذیبی سرمائے کا گہوارہ ہے۔ اس میں خاندان کے اٹھنے بیٹھنے کے آداب، مہمان نوازی کی روایت، بڑے چھوٹے کی تمیز، اور معاشرتی و معاشی حالات کی جھلکیاں محفوظ ہوتی ہیں۔

‎انسان جس اعتماد اور بے ساختگی سے اپنی مادری زبان میں اظہار کرتا ہے، وہ کیفیت کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں—چاہے اس پر کتنا ہی عبور کیوں نہ حاصل ہو۔ انسان فطری طور پر سوچتا اپنی ہی زبان میں ہے؛ پھر جب وہ انہی خیالات اور تصورات کو کسی دوسری زبان میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے لفظوں اور جملوں کے انتخاب میں توقف کرنا پڑتا ہے۔ ادائیگی میں وہ روانی اور بے تکلفی شاذ ہی باقی رہتی ہے جو اپنی زبان میں فطری طور پر
موجود ہوتی ہے۔
میرے نزدیک ماں بولی کی لذت اور اس کا چسکا کسی اور زبان میں نہیں ملتا۔ اس میں پیار اور خلوص کی جو حلاوت ہے، وہ براہِ راست دل سے دل تک پہنچتی ہے، بغیر کسی پردے کے۔ میرے والد کہا کرتے تھے:” پتر، جیڑا چسکا ماں بولی دے لفظاں وچ اے، اوہ ہور کسے وچ نئیں۔” حالانکہ وہ اردو میں بھی نہایت روانی سے گفتگو کر سکتے تھے۔

“ چھڈ بیٹے ، اس کم تو دور رہ “ وہ اردو میں بھی یہ جملہ کہہ سکتے تھے : “ بیٹے، اس کام سے باز رہو، یہ اتمارے لئے اچھا نہیں ہے،” تو مفہوم وہی رہتا، مگر جو تاثیر اور اپنائیت ماں بولی کے جملے میں تھی، وہ دوسری زبان میں مفقود محسوس ہوتی۔ یہی احساس ہر شخص اپنی اپنی مادری زبان کے بارے میں رکھتا ہے—اور بجا رکھتا ہے۔

‎مادری زبان ہی کے ذریعے نسل در نسل تہذیب، داستانیں اور روایات منتقل ہوتی ہیں۔ مجھے آج بھی اپنی دادی اماں کی وہ کہانیاں اور لوریاں یاد ہیں جو وہ ہمیں رات کو سلاتے وقت سنایا کرتی تھیں۔ ایک دن میں نے پوچھا: “دادی، آپ نے یہ کہانیاں
کہاں سے سیکھیں؟” -وہ مسکرائیں اور بولیں: “پتر، اپنی دادی توں۔”اس مختصر سے جواب میں صدیوں کا ربط، محبت کی زنجیر، اور روایت کا تسلسل پوشیدہ تھا۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا بچے کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت سودمند ہے۔ اسی اصول کے تحت 1980ء کی دہائی میں برطانیہ کے شہر Bradford میں اسکولوں میں کمیونٹی زبانوں کی تعلیم کا باقاعدہ اندراج کیا گیا، تاکہ بچوں کی فکری بنیاد ان کی اپنی زبان میں مضبوط ہو۔

برطانیہ جیسے معاشرے میں انگریزی سیکھنا ناگزیر ہے، اور ہمیں اس پر بھرپور توجہ بھی دینی چاہیے؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی ماں بولی کو سیکھنا، بولنا اور لکھنا بھی ہماری شناخت اور ثقافت کے لئےتحفظ کے لیے لازمی ہے۔ UNESCO کے مطابق جب کوئی زبان معدوم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک مکمل تہذیب، ایک طرزِ فکر اور تاریخ کا ایک باب بھی خاموش ہو جاتا ہے۔

اس ضمن میں نبیلا احمد کا بریڈفورڈ میں پہاڑی/پوٹھواری لٹریچر پروجیکٹ ایک قابلِ ستائش کاوش ہے۔ اسی طرح عمران حفیظ کا لیٹرسی پروجیکٹ اور ظفر تنویر، کیول سنگھ جگپال اور ان کے رفقا کی جدوجہد مادری زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے روشن مثال ہے۔
‎میں پوٹھواری، پہاڑی اور پنجابی پڑھ تو سکتا ہوں، مگر دل میں یہ حسرت رہتی ہے کہ کاش میں ان زبانوں میں لکھ بھی سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ تحریر بھی پوٹھواری یا پہاڑی میں ہوتی—اور اس
کا چسکا، اس کی خوشبو اور اس کی تاثیر کچھ اور ہی ہوتی۔
اس ضمنُ میں پہاڑی بیٹھک بلخصوص قیصر ریاض ، ڈاکٹر کرامت اقبال اور ان کے رفقا کا پہاڑی زبان کی بقا اور فروغ کے حوالے سے لگن اور محنت قابل تشکر ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.