واشنگٹن/کولمبو (ویب ڈیسک): ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ نے آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی مارکیٹ پر شدید اثر ڈالا ہے، جس کے باعث عالمی اور مقامی سطح پر قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ایران کی اسرائیل اور امریکا کے خلاف جنگ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور بغیر کسی تعطل کے جاری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا بھر میں خام تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ان اثرات کا سب سے نمایاں مظہر سری لنکا میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں دو ہفتوں کے اندر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوسری مرتبہ ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سری لنکا میں پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 81 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 398 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 79 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 382 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں یہ اضافہ عوام اور صنعتوں دونوں کے لیے بوجھ کا باعث بن رہا ہے، اور اگر جنگی صورتحال برقرار رہی تو مزید مہنگائی اور سپلائی میں رکاوٹ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔