ویانا میں سائنسدانوں نے ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے انتہائی چھوٹا مگر فعال نینو کیو آر کوڈ تیار کر لیا ہے، جو طویل عرصے تک ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ Vienna University of Technology کے محققین نے چارج شدہ ذرات کی مدد سے ایک مائیکروسکوپک کیو آر کوڈ تیار کیا، جسے ایک خاص سیرامک سطح پر کندہ کیا گیا ہے۔ یہ کوڈ صرف 1.98 مربع مائیکرو میٹر پر مشتمل ہے، جو بیکٹیریا سے بھی چھوٹا ہے، اور اسے Guinness World Records نے باضابطہ طور پر تسلیم بھی کر لیا ہے۔ انتہائی چھوٹی جسامت کے باوجود یہ کیو آر کوڈ مکمل طور پر فعال ہے، تاہم اسے دیکھنے اور پڑھنے کے لیے الیکٹران مائیکروسکوپ درکار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی خاص بات اس کا غیر معمولی استحکام ہے، کیونکہ یہ خاص سیرامک مواد انتہائی سخت حالات میں بھی ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ یہ طریقہ روایتی ڈیٹا اسٹوریج کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ہے اور بغیر بجلی یا دیکھ بھال کے صدیوں تک معلومات محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا تو ایک A4 سائز کے رقبے میں دو ٹیرا بائٹس سے زائد ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت سائنسدان اس طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے اور صنعتی سطح پر استعمال کے امکانات پر کام کر رہے ہیں۔

0

ویانا میں سائنسدانوں نے ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے انتہائی چھوٹا مگر فعال نینو کیو آر کوڈ تیار کر لیا ہے، جو طویل عرصے تک ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔Vienna University of Technology کے محققین نے چارج شدہ ذرات کی مدد سے ایک مائیکروسکوپک کیو آر کوڈ تیار کیا، جسے ایک خاص سیرامک سطح پر کندہ کیا گیا ہے۔ یہ کوڈ صرف 1.98 مربع مائیکرو میٹر پر مشتمل ہے، جو بیکٹیریا سے بھی چھوٹا ہے، اور اسے Guinness World Records نے باضابطہ طور پر تسلیم بھی کر لیا ہے۔

انتہائی چھوٹی جسامت کے باوجود یہ کیو آر کوڈ مکمل طور پر فعال ہے، تاہم اسے دیکھنے اور پڑھنے کے لیے الیکٹران مائیکروسکوپ درکار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی خاص بات اس کا غی معمولی استحکام ہے، کیونکہ یہ خاص سیرامک مواد انتہائی سخت حالات میں بھی ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ یہ طریقہ روایتی ڈیٹا اسٹوریج کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ہے اور بغیر بجلی یا دیکھ بھال کے صدیوں تک معلومات محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا تو ایک A4 سائز کے رقبے میں دو ٹیرا بائٹس سے زائد ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت سائنسدان اس طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے اور صنعتی سطح پر استعمال کے امکانات پر کام کر رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.