Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے، جہاں شہریوں نے ریاست کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور حملوں کی مذمت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور وزیر خارجہ عباس اراغچی بھی شریک ہوئے۔ صدر پیزشکیان نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا، جبکہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی موجودگی کا مقصد عوام کا حوصلہ بلند کرنا ہے۔
ادھر ایرانی نرسنگ سسٹم آرگنائزیشن کے مطابق حالیہ حملوں میں کم از کم 10 نرسیں دورانِ ڈیوٹی ہلاک ہوئیں جبکہ متعدد طبی عملہ زخمی ہوا ہے۔
دوسری جانب اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائیوں میں خطے میں امریکی اور اتحادی اہداف کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق سعودی عرب کے علاقے الخرج میں امریکی اہلکاروں کی رہائش گاہوں سمیت مختلف تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ ایک امریکی AWACS طیارے کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں بھی امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور ایک اسرائیل سے منسلک کنٹینر جہاز پر حملہ کیا گیا۔ ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ایران میں اہداف کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور امریکی یا اتحادی حکام کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائی کے انتباہات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔