اسلام آباد
امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں پاکستان کی میزبانی میں ایک خصوصی تقریب کے دوران دستخط کیے جائیں گے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی اور امن کے قیام کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں طے پانے والے اس معاہدے کو عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہوئی ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابتدائی معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ کے روز جنیوا میں منعقد ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب میں شرکت کا امکان کم ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، اگرچہ ایرانی حکام کی جانب سے حتمی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ جنیوا روانہ ہوں گے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وفاقی وزرا بھی پاکستانی وفد کا حصہ ہوں گے۔
اس سے قبل بدھ کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا۔
تاہم جنیوا معاہدے کی تقریب سے قبل عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ تنازع اس وقت تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنے وعدوں پر عمل کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو امن عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
اس معاہدے کا اعلان سب سے پہلے پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کیا تھا۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں مستقل طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور تمام علاقائی و بین الاقوامی فریقین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس معاہدے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔
اگرچہ دونوں ممالک نے معاہدے کے بعض اہم نکات کی تصدیق کر دی ہے، تاہم کئی اہم پہلو اب بھی غیر واضح ہیں، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور معاہدے کے طویل المدتی نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات۔
دریں اثنا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ امریکا اور ایران پہلے ہی مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کر چکے ہیں۔
وینس کے مطابق امریکا کی جانب سے انہوں نے اور صدر ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دستخط کیے۔
