بقا کا بجٹ یا ترقی کا روڈ میپ؟

شگفتہ نواز

0

اسلام آباد: ہر قومی بجٹ محض آمدن اور اخراجات کے اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی ملک کی اقتصادی ترجیحات، پالیسی سمت اور مستقبل کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ بھی ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے: کیا پاکستان کی معیشت اب بھی بقا کی حکمتِ عملی پر چل رہی ہے یا واقعی پائیدار ترقی کی طرف پیش رفت کر رہی ہے؟
مالیاتی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بجٹ بنیادی طور پر معاشی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ وفاقی اخراجات کا حجم تقریباً 18.77 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 15.26 ٹریلین روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے۔ دوسری جانب قرضوں کی ادائیگی اب بھی قومی وسائل کا بڑا حصہ استعمال کر رہی ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔
دفاعی اخراجات، جن کا تخمینہ تقریباً 3 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، بجٹ کے بڑے حصوں میں شامل ہیں، جبکہ ترقیاتی اخراجات مالیاتی دباؤ اور بیرونی مالیاتی شرائط کی وجہ سے محدود دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ بجٹ کی ترجیح اب بھی معاشی بقا ہے، نہ کہ طویل المدتی ترقی۔
اس تاثر کو تین عوامل مزید مضبوط کرتے ہیں: خسارے کا انتظام، میکرو اکنامک استحکام اور قرضوں کی ادائیگی۔ اس کے برعکس ترقی پر مبنی بجٹ عموماً برآمدات میں اضافے، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت کے فروغ اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی نمو کو ترجیح دیتا ہے۔
مالی سال 2026-27 کا مالیاتی ڈھانچہ مجموعی طور پر بقا پر مبنی فریم ورک سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے، جبکہ پائیدار اقتصادی تبدیلی کی جانب پیش رفت محدود دکھائی دیتی ہے۔
اس رجحان کا سب سے نمایاں ثبوت غیر ترقیاتی اخراجات کا غلبہ ہے۔ قرضوں کی خدمت، بین الاقوامی مالیاتی وعدوں کی تکمیل اور انتظامی اخراجات قومی وسائل کا بڑا حصہ جذب کرتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً انفراسٹرکچر، تحقیق و ترقی، تعلیم اور صنعتی جدیدیت جیسے شعبوں میں مطلوبہ سرمایہ کاری ممکن نہیں ہو پاتی۔ اگرچہ ترقیاتی اخراجات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا گیا، لیکن ساختی رکاوٹیں اور کمزور نفاذ ان کے ممکنہ اثرات کو محدود کر سکتے ہیں۔
آمدنی کے محاذ پر حکومت نے ٹیکس وصولیوں میں اضافے کو بجٹ کا مرکزی ستون بنایا ہے۔ بہتر تعمیل اور ٹیکس نیٹ میں توسیع یقیناً ضروری ہے، تاہم پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10.3 فیصد ہے، جو خطے کی کئی معیشتوں سے نمایاں طور پر کم ہے۔
یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ حکمتِ عملی معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے بجائے محدود تعداد میں موجود ٹیکس دہندگان سے زیادہ محصولات حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔ ایک حقیقی ترقیاتی حکمتِ عملی کا تقاضا یہ ہے کہ معیشت کی پیداواری بنیاد کو وسیع کیا جائے تاکہ محصولات کا اضافہ قدرتی طور پر بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں سے حاصل ہو، نہ کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال کر۔
بجٹ کی تشکیل میں ایک اور اہم عنصر پاکستان کا بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف، پر مسلسل انحصار ہے۔ ملک کا مالیاتی ڈھانچہ اب بھی بیرونی پروگراموں سے جڑا ہوا ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط، کرنسی کے استحکام اور سبسڈی میں کمی جیسے اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔
اگرچہ یہ اقدامات میکرو اکنامک استحکام کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کے باعث حکومت کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو جاتا ہے، خصوصاً اس وقت جب نجی شعبہ خاطر خواہ کردار ادا نہ کر رہا ہو۔
وسیع تر اقتصادی منظرنامہ بھی موجودہ مالیاتی حکمتِ عملی کی حدود کو واضح کرتا ہے۔ حکومت نے 2025-26 میں 4 فیصد سے زائد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن اقتصادی سروے کے مطابق نمو 3.7 فیصد رہی، جو پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے لیے مطلوبہ روزگار پیدا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
اگرچہ افراطِ زر میں کمی آئی ہے اور صنعتی شعبے میں جزوی بحالی کے آثار نظر آتے ہیں، تاہم بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ اب بھی توانائی کی بلند لاگت اور کمزور سرمایہ کاری جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ برآمدات بھی زیادہ تر کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر منحصر ہیں، جس سے پاکستان کی علاقائی اور عالمی سطح پر مسابقت محدود ہو جاتی ہے۔
یہ تمام اشاریے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشی استحکام خود بخود ساختی تبدیلی میں تبدیل نہیں ہو رہا۔
انسانی سرمائے کی ترقی ایک اور بنیادی چیلنج ہے۔ اگرچہ تعلیم کے لیے مختص فنڈز میں تقریباً 4.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، لیکن آبادی میں اضافے اور تعلیمی ضروریات کے حجم کو دیکھتے ہوئے یہ اضافہ ناکافی محسوس ہوتا ہے۔ تعلیمی اخراجات اب بھی جی ڈی پی کے صرف 0.8 فیصد کے برابر ہیں، جو طویل المدتی اقتصادی تبدیلی کے لیے درکار سطح سے کہیں کم ہے۔
موجودہ مختصات مہارتوں، پیداواریت، اختراع اور افرادی قوت کی عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے درکار عزم کی عکاسی نہیں کرتیں۔ انسانی سرمائے میں مؤثر سرمایہ کاری کے بغیر معاشی استحکام وقتی طور پر حاصل تو کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار اور جامع ترقی کا حصول مشکل رہے گا۔
سوال یہ نہیں کہ بجٹ معیشت کو سنبھال سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معیشت کو آگے بھی لے جا سکتا ہے؟ موجودہ مالیاتی خاکہ استحکام کے لیے ضروری اقدامات ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن ترقی کے لیے درکار ساختی تبدیلی، پیداواری سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کی تعمیر کے حوالے سے اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
جب تک پالیسی کا مرکز بقا سے نکل کر پیداوار، برآمدات، جدت اور انسانی ترقی نہیں بنتا، پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کے درمیان اسی کشمکش کا شکار رہے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.