ہرمز کی کشیدگی: تیل، تجارت اور عالمی سلامتی پر منڈلاتا نیا خطرہ

نیوز ڈیسک

0

تہران/واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اب صرف دو ممالک کے درمیان فوجی تنازع نہیں رہی بلکہ آبنائے ہرمز کی وجہ سے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت کے لیے ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہو رہی ہے۔
دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شامل آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان حملوں، جوابی کارروائیوں اور بحری سرگرمیوں میں اضافہ خطے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھا رہا ہے۔
امریکا نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تازہ حملوں میں ایرانی ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری اثاثوں اور میزائل و ڈرون ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں اردن میں امریکی افواج پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اردن میں حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہے، جس کے بعد جاری تنازع میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی ہے، جبکہ 420 سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جواب دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے علاقے ساریک پر امریکی حملہ کیا گیا، تاہم حکام نے دعویٰ کیا کہ اس میں کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
کشیدگی کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اس اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن نے خلیج میں اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کرتے ہوئے سمندری سلامتی کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ان جہازوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے جو ایرانی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تاہم امریکا اور اتحادی ممالک ان اقدامات کو عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
عالمی خدشات کے پیش نظر یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ بحری آمدورفت میں رکاوٹیں ختم کرے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائے۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کے لیے عالمی سفری الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام اور فضائی حدود کی بندش سے بین الاقوامی سفر متاثر ہو سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور امریکا کو اپنی پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
ایرانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی فضائی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جس سے تنازع کے انسانی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی، تجارت اور سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.