ایران جنگ ہارا یا بیانیہ جیت گیا؟
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی تہران کی عظیم الشان مسجد میں پہنچا دیا گیا ہے، جہاں ماتمی تقریبات اور مذہبی رسومات جاری ہیں۔
شازیہ محبوب
اسلام آباد:ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی تہران کی عظیم الشان مسجد میں پہنچا دیا گیا ہے، جہاں ماتمی تقریبات اور مذہبی رسومات جاری ہیں۔
ایران بھر اور بیرونِ ملک سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جنازے میں تقریباً دو کروڑ افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
ایران نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ تقریباً 100 ممالک کے سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم، پارلیمانی رہنما، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ سطحی وفود ان تقریبات میں شرکت کریں گے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر تہران پہنچ چکے ہیں۔
چین، روس، بھارت، ترکی، عراق، قطر، عمان، مصر، لبنان، آذربائیجان، افغانستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، سری لنکا، وسطی ایشیائی ریاستوں، کیوبا، سربیا، تیونس، گھانا، نمیبیا، میانمار، تھائی لینڈ، گیمبیا اور نکاراگوا سمیت متعدد ممالک کے وفود کی آمد بھی جاری ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران میں غیرمعمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں سوگواروں اور غیر ملکی شخصیات کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
ایران اس غیرمعمولی عوامی اجتماع اور عالمی شرکت کو ایک علامت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جنگ، سخت معاشی پابندیوں اور مسلسل دباؤ کے باوجود ایران نہ اپنی سیاسی و مذہبی اہمیت کھو سکا ہے اور نہ ہی اپنا سفارتی اثر و رسوخ۔
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل بالکل مختلف بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔
تنازع کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران کو فیصلہ کن شکست دی گئی، جبکہ اسرائیلی قیادت نے بھی اپنی فوجی کارروائی کو ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا۔ یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے جب پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف رہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایران کو اس جنگ میں بھاری نقصان پہنچا۔ اس کے فوجی انفراسٹرکچر، اسٹریٹجک تنصیبات، معیشت اور اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کو شدید دھچکا لگا، جس کے اثرات ختم ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات بھی ایران کے لیے صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی اور جذباتی صدمہ ہے، کیونکہ انہیں ملک کی دفاعی حکمت عملی اور طویل المدتی اسٹریٹجک سوچ کا معمار سمجھا جاتا تھا۔
فوجی اعتبار سے امریکہ اور اسرائیل نے اپنی غیرمعمولی تکنیکی برتری کا مظاہرہ کیا۔ امریکہ نے زیرزمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بی-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار استعمال کیے، جنہیں جدید لڑاکا طیاروں کی معاونت حاصل تھی۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے طویل فاصلے تک درست حملوں کے لیےایف-35 آئی ادیر، ایف-15 آئی راعام اور ایف-16 آئی سوفا جنگی طیارے استعمال کیے، جبکہ اپنے فضائی دفاع کے لیے آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ، ایرو-2، ایرو-3، تھاڈ (THAAD) اور ایجس بیلسٹک میزائل دفاعی نظام پر مشتمل دنیا کے جدید ترین مربوط دفاعی نیٹ ورک پر انحصار کیا۔
ان تمام صلاحیتوں نے امریکہ اور اسرائیل کو واضح فوجی اور تکنیکی برتری ضرور فراہم کی، لیکن کیا صرف عسکری غلبہ ہی کسی جنگ میں مکمل فتح کی ضمانت ہوتا ہے؟
اگر ایران واقعی ہر محاذ پر شکست کھا چکا ہے تو پھر آج تہران عالمی توجہ کا مرکز کیوں بنا ہوا ہے؟
اگر ریاست مکمل طور پر کمزور ہو چکی ہے تو لاکھوں افراد جنازے میں شرکت کے لیے کیوں جمع ہو رہے ہیں؟
اور اگر ایران عالمی سطح پر تنہا ہو گیا ہے تو تقریباً سو ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود تہران کیوں پہنچ رہے ہیں؟
یہ سوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کے فوجی نتائج اور اس کے سیاسی و سماجی اثرات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ فوجی طاقت انفراسٹرکچر تباہ کر سکتی ہے، عسکری صلاحیت کو کمزور کر سکتی ہے اور میدانِ جنگ میں برتری حاصل کر سکتی ہے، لیکن عوامی حمایت، قومی یکجہتی، سیاسی علامت اور سفارتی روابط تنازع کے ایک ایسے پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں جسے صرف بموں، میزائلوں یا تباہ شدہ تنصیبات سے نہیں ناپا جا سکتا۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایران کے نقصانات کو نظرانداز کیا جائے یا امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کامیابیوں کو کم تر سمجھا جائے۔ دونوں حقیقتیں بیک وقت موجود ہو سکتی ہیں۔
ایک طرف ایران نے انسانی، عسکری، اقتصادی اور قیادی سطح پر بھاری قیمت ادا کی، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل نے اپنی عسکری اور تکنیکی برتری ثابت کی۔
تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا صرف فوجی برتری ہی مکمل فتح کہلانے کے لیے کافی ہے؟
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ کس نے جیتی، بلکہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں فتح کی تعریف کیا ہونی چاہیے۔ کیا فتح صرف دشمن کو عسکری نقصان پہنچانے کا نام ہے، یا پھر عوام کا اعتماد، قومی استحکام، سفارتی اہمیت اور سیاسی اثر و رسوخ بھی اس تعریف کا حصہ ہیں؟
شاید دنیا کو اب فتح کی ایک نئی تعریف لکھنے کی ضرورت ہے۔
