نیوز ڈیسک
واشنگٹن: امریکی حکام نے جدید اسٹیلتھ فائٹر طیارے کے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم حادثے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ لینڈنگ کے دوران جدید جنگی طیارہ کیوں گر کر تباہ ہوا۔
امریکی میرین کور کا F-35B لائٹننگ II اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ جمعہ کی صبح کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے قریب میرامار میرین کور ایئر اسٹیشن پر اترنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔
طیارے کے پائلٹ نے حادثے سے چند لمحے قبل کامیابی سے ایجیکٹ کر لیا اور اسے غیر جان لیوا چوٹیں آئیں۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ ایئر اسٹیشن کی فلائٹ لائن پر پیش آیا، جسے کلاس اے ملٹری حادثہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ فوجی فضائی حادثات کی سب سے سنگین درجہ بندی ہوتی ہے، جس میں جانی نقصان، مستقل معذوری یا 25 لاکھ ڈالر سے زائد مالی نقصان شامل ہو سکتا ہے۔
حادثے کے فوراً بعد طیارہ شعلوں کی لپیٹ میں آگیا اور علاقے میں سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔
یو ایس میرین کور نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ پائلٹ حادثے سے پہلے بحفاظت طیارے سے باہر نکل گیا تھا، جس کے بعد اسے طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق طیارہ رن وے کے قریب پہنچتے ہوئے معمول سے زیادہ نیچے پرواز کرتا دکھائی دیا۔ لینڈنگ کے بجائے یہ ایئر اسٹیشن کے قریب موجود کھلے علاقے میں جا گرا۔
فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے 36 سالہ عینی شاہد ویڈ لاٹ نے بتایا کہ انہوں نے دو لڑاکا طیاروں کو زمین کی طرف آتے دیکھا۔ ان کے مطابق پہلا طیارہ معمول کے مطابق لینڈ کر گیا، جبکہ دوسرا غیر معمولی طور پر سست دکھائی دے رہا تھا، جیسے وہ ہوا میں معلق ہو۔
انہوں نے بتایا کہ جب طیارہ زمین سے تقریباً 100 فٹ کی بلندی پر تھا تو پائلٹ نے ایجیکٹ کیا اور پیراشوٹ کامیابی سے کھل گیا، جس کے چند لمحوں بعد طیارہ زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔
سان ڈیاگو فائر ڈپارٹمنٹ کی ترجمان کینڈیس ہیڈلی نے بتایا کہ فائر فائٹرز نے نہ صرف طیارے میں لگی آگ پر قابو پایا بلکہ حادثے کے بعد قریبی جھاڑیوں میں لگنے والی آگ بھی بجھائی۔ فضائی مناظر میں امدادی اہلکاروں کو ملبے پر فوم اور پانی کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ طیارے سے سیاہ دھواں اٹھ رہا تھا۔
F-35B لائٹننگ II دنیا کے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مختصر ٹیک آف اور عمودی لینڈنگ (STOVL) کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے ایمفی بیئس حملہ آور جہازوں اور مختصر رن ویز سے بھی آپریٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس طیارے کی قیمت تقریباً 109 ملین ڈالر ہے۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق ابھی تک حادثے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ تفتیش کار فلائٹ ڈیٹا، طیارے کے تکنیکی نظام، موسمی حالات اور دیگر ممکنہ عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
