ٹیکنالوجی کے دور میں ہاتھ سے چلتا نظام

0

عاصم مصطفی اعوان
اسلام آباد: شاید اس شخص کی پوری زندگی ٹرینوں کی آواز سنتے، پٹریوں کے درمیان کھڑے رہتے اور ریل کے سفر کو محفوظ بنانے میں گزر گئی ہے۔
ڈیجیٹل کنٹرول رومز، خودکار سگنلز اور کمپیوٹرائزڈ سوئچنگ کے جدید نظام عام ہونے سے بہت پہلے، ایسے ریلوے کارکن سخت دھوپ، سردیوں کی دھند اور مشکل حالات میں کھڑے ہو کر اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ ہر ٹرین درست راستے پر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو۔
کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ایک بزرگ کارکن اسی ذمہ داری کو اپنے ہاتھوں سے نبھا رہا ہے۔
یہ تصویر صرف ایک عمر رسیدہ شخص کی نہیں بلکہ ایک گزرتے ہوئے دور کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وقت، محنت اور اس خاموش خدمت کی کہانی ہے جس پر ریلوے کا نظام برسوں قائم رہا۔
پاکستان ریلویز کبھی خطے کے اہم اور قابل فخر اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ برطانوی دور میں بچھایا گیا ریلوے نیٹ ورک دور دراز علاقوں کو آپس میں جوڑتا تھا، مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کا اہم ذریعہ تھا اور ملک کی تجارت میں بنیادی کردار ادا کرتا تھا۔
ریلوے اسٹیشنز صرف آمد و رفت کے مقامات نہیں بلکہ سماجی سرگرمیوں کے مراکز بھی ہوا کرتے تھے، جبکہ ریلوے کو ترقی، رابطے اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
تاہم، وقت کے ساتھ یہ ادارہ پرانے انفراسٹرکچر، مالی خسارے، بروقت دیکھ بھال نہ ہونے اور بدلتی ہوئی ترجیحات جیسے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے۔
آج بھی اس نظام کو چلانے کا بڑا بوجھ انہی کارکنوں کے کندھوں پر ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے بجائے اپنے تجربے اور مہارت کے ذریعے ریلوے کو رواں رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
تصویر میں نظر آنے والا بزرگ ریلوے کارکن دستی طور پر ریلوے سوئچ چلا رہا ہے، جو ایک اہم ذمہ داری ہے کیونکہ اسی عمل سے طے ہوتا ہے کہ ٹرین کس ٹریک پر جائے گی۔
یہ کام نہ صرف جسمانی محنت کا تقاضا کرتا ہے بلکہ مسلسل توجہ، تجربے اور ذمہ داری کا بھی محتاج ہے۔
یہ منظر ایک اہم سوال بھی اٹھاتا ہے کہ جب دنیا کے کئی جدید ریلوے نظام خودکار پوائنٹ مشینوں اور جدید کنٹرول ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکے ہیں، تو پاکستان میں ایسے اہم کام اب بھی عمر رسیدہ ہاتھوں سے کیوں انجام دیے جا رہے ہیں؟
اس کارکن کے چہرے کی تھکن ایک ایسی داستان بیان کرتی ہے جو صرف سرکاری اعداد و شمار یا رپورٹس میں نظر نہیں آتی۔
اس کی جھکی ہوئی کمر کئی برسوں کی محنت کی گواہی دیتی ہے، جبکہ اس کے ہاتھ ان ہزاروں ٹرینوں کی یادیں سنبھالے ہوئے ہیں جو اس کی ذمہ داری کے دوران محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچیں۔
یہ صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک ایسا کردار ہے جس نے برسوں تک لوگوں کے سفر اور ملک کے نظام کو حرکت میں رکھنے میں مدد دی۔
جدیدیت کا اندازہ صرف بڑے منصوبوں، بلند دعووں یا مستقبل کی تیز رفتار ٹرینوں سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ موجودہ نظام کو چلانے والے افراد کو کس قدر سہولیات، تحفظ اور عزت فراہم کی جاتی ہے۔
ترقی کا آغاز صرف مستقبل کے خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ موجودہ نظام کو بہتر بنانے اور ان لوگوں کی قدر کرنے سے ہوتا ہے جو اسے روزانہ کی بنیاد پر چلا رہے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ یہ تصویر اتنی اثر انگیز محسوس ہوتی ہے۔ ریلوے کی پٹریاں دور تک پھیلی ہوئی ہیں، جو سفر، حرکت اور امکانات کی علامت ہیں، لیکن ان پٹریوں کے درمیان کھڑا یہ بزرگ کارکن یاد دلاتا ہے کہ ترقی صرف ٹرینوں کی رفتار سے نہیں بلکہ ان لوگوں کی حالت سے بھی پہچانی جاتی ہے جو انہیں چلانے میں اپنا وقت اور زندگی صرف کر دیتے ہیں۔
بلٹ ٹرین کے خواب سے پہلے، ان ہاتھوں کو دیکھنا ضروری ہے جنہوں نے دہائیوں تک ریلوے کے سفر کو ممکن بنایا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.