ٹرمپ کا چین پر نیا سولر ٹیرف

0

نیوز ڈیسک
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین پر انحصار کم کرنے اور ملک میں سولر اور سیمی کنڈکٹر مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے نئے تجارتی اقدامات کا اعلان کردیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق پولی سیلیکون اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ نئی درآمدی شرائط اور بعض سولر و سیمی کنڈکٹر مصنوعات کے لیے کم از کم درآمدی قیمتیں بھی مقرر کی جائیں گی۔ یہ اقدامات 4 دسمبر سے نافذ ہوں گے۔
پولی سیلیکون انتہائی خالص سیلیکون کی ایک شکل ہے جو سولر پینلز اور سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ چین عالمی سطح پر پولی سیلیکون کی پیداوار میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جس کے باعث امریکی صنعت اس اہم خام مال کے لیے درآمدات پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت امریکی محکمہ تجارت کو ان کمپنیوں کے لیے مراعاتی پروگرام تیار کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا جو امریکا میں پولی سیلیکون اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی فیکٹریاں قائم کریں گی۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ملک میں مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور مصنوعی ذہانت، توانائی اور قومی سلامتی سے متعلق اہم شعبوں کے لیے زیادہ مضبوط اور محفوظ سپلائی چین تشکیل دینا ہے۔
امریکی سولر صنعت کو کیا فائدہ ہوگا؟
نئی پالیسی سے امریکی پولی سیلیکون مینوفیکچرنگ شعبے کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جو چینی پیداوار کے مقابلے میں اب بھی محدود پیمانے پر کام کر رہا ہے۔
مشی گن میں موجود ہیملاک سیمی کنڈکٹر اور ٹینیسی میں قائم واکر کیمی امریکا کی بڑی پولی سیلیکون پیداواری سہولیات میں شامل ہیں۔
ہیملاک سیمی کنڈکٹر نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پالیسی اضافی سرمایہ کاری اور ملکی پیداواری صلاحیت میں توسیع کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے، جبکہ واکر کیمی نے کہا کہ وہ نئے اقدامات کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
امریکی سولر صنعت طویل عرصے سے چینی کمپنیوں پر حکومتی سبسڈی سے فائدہ اٹھانے اور کم قیمتوں پر عالمی منڈی میں مصنوعات فروخت کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ بعض چینی مینوفیکچررز نے امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے اپنی پیداوار دوسرے ممالک میں منتقل کی ہے۔
نئی پالیسی صرف پولی سیلیکون تک محدود نہیں بلکہ اس میں پولی سیلیکون، انگوٹس، ویفرز، سولر سیلز اور سولر پینلز کے لیے کم از کم درآمدی قیمتیں بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس وسیع تر پالیسی کا مقصد کسی ایک مرحلے کے بجائے پوری ملکی سولر سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔
سولر مینوفیکچرنگ میں امریکی سرمایہ کاری
امریکا میں سولر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری 2022 میں کانگریس کی جانب سے ٹیکس مراعات متعارف کرائے جانے کے بعد بڑھی ہے، تاہم اس کا بڑا حصہ سولر پینلز کی حتمی اسمبلی تک محدود رہا ہے۔
امریکی کمپنیاں اب بھی ویفرز اور سولر سیلز جیسے اہم اجزا کے لیے بیرونی سپلائرز پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ ان مصنوعات کی مقامی پیداوار کے لیے زیادہ وقت اور سرمایہ درکار ہوتا ہے۔
T1 انرجی، فرسٹ سولر اور کیو سیلز سمیت کئی امریکی سولر کمپنیوں نے نئی پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے۔
T1 انرجی کے چیف ایگزیکٹو ڈین بارسیلو نے اسے جدید مینوفیکچرنگ اور امریکی توانائی کی سپلائی چین کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
کمپنی ٹیکساس میں اپنے موجودہ سولر پینل پلانٹ کے علاوہ نئی سولر سیل مینوفیکچرنگ فیکٹری کے قیام کے لیے 510 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
دسمبر سے پہلے درآمدات بڑھنے کا امکان
تجارتی ماہرین کے مطابق نئی پالیسی کے مکمل نفاذ سے قبل بھی مارکیٹ میں اس کے اثرات سامنے آسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض درآمد کنندگان نئے ٹیرف اور قیمتوں کی شرائط سے بچنے کے لیے 4 دسمبر سے پہلے زیادہ مقدار میں مصنوعات درآمد کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عارضی طور پر درآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔
دوسری جانب، درآمدی پرزوں پر انحصار کرنے والی امریکی سولر کمپنیاں عبوری مدت کے دوران اپنے سپلائی معاہدوں پر نظرثانی اور نئی درآمدی لاگت کے مطابق کاروباری حکمت عملی ترتیب دے سکتی ہیں۔
یوں ٹرمپ انتظامیہ کا نیا اقدام صرف چین سے درآمدات کو محدود کرنے تک محدود نہیں بلکہ امریکا میں سولر اور سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے خام مال سے لے کر تیار مصنوعات تک ایک زیادہ خودمختار سپلائی چین قائم کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.