نیوز ڈیسک
کراچی:وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں طبی سہولیات کی کمی کے باعث روزانہ تقریباً 300 بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے پیش نظر صحت کے شعبے میں فوری اصلاحات اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
کراچی کے ایک نجی اسپتال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، تاہم صحت عامہ اور آبادی میں اضافے کے حوالے سے ملک کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے، جس کے باعث صحت اور تعلیم سمیت بنیادی عوامی سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
وفاقی وزیر نے نرسنگ کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماریوں سے بچاؤ، بروقت علاج اور عوام میں صحت سے متعلق آگاہی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ویکسینیشن پروگرامز پر لاکھوں ڈالر خرچ کر رہی ہے اور اس مد میں اخراجات 2030 تک1.2 ارب ڈالرتک پہنچنے کا امکان ہے۔
مصطفیٰ کمال نے عوام میں صحت سے متعلق آگاہی کی کمی کو ویکسینیشن پروگرامز کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن ٹیموں کو بعض علاقوں میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض افراد ٹیموں کے گھروں پر پہنچنے کے باوجود دروازے نہیں کھولتے۔
وفاقی وزیر صحت نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے معاہدوں پر دستخط کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ 2030 سے قبل پاکستان میں مقامی ویکسین کی تیاری شروع کردی جائے، جس سے ملک کی صحت کے نظام کو مزید مستحکم کرنے اور درآمدی ویکسین پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مصطفیٰ کمال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں بیماریوں کی روک تھام، ویکسینیشن اور عوامی آگاہی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ بچوں سمیت شہریوں کو بہتر طبی ہولیات فراہم کی جاسکیں۔
Prev Post
Next Post
