ڈاکٹر اکرام اللہ (حصہ اول)
اسلام میں دینی اجتماعات صرف انسانوں کے اکٹھا ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ دلوں کی اصلاح، اللہ تعالیٰ کی یاد، سنتِ نبویؐ کے احیاء اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اخوت کا ایک عظیم ذریعہ ہیں۔ جہاں ہزاروں انسان اپنے دنیوی معمولات کو چھوڑ کر محض اللہ کی رضا، دین کی بات سننے، اور اپنے باطن کی پاکیزگی کے لیے ایک صف میں بیٹھتے ہیں، وہاں عبادات کے ساتھ ساتھ ایثار اور خدمت کا جذبہ بھی ایک بندگی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
خار، باجوڑ میں منعقد ہونے والا تبلیغی اجتماع بھی اسی دینی وحدت اور روحانی کیفیت کا ایک زندہ منظرنامہ پیش کر رہا تھا۔
خار، باجوڑ کے افق پر جب 28 ستمبر کی دوپہر کے سائے ڈھل رہے تھے، تو وادی کی ہوا میں ایک مختلف قسم کا ترنم اور گہما گہمی محسوس ہو رہی تھی۔ تقریباً دو بجے کے قریب جب میں اور میرے عزیز ساتھی نور الوہاب اجتماع گاہ کی حدود میں داخل ہوئے، تو دور دور سے ان گنت انسان اسی ایک نقطے کی طرف گامزن تھے۔ کچھ اجتماعات صرف انسانوں کے سروں کا مجموعہ نہیں ہوتے؛ ان کے اندر ایک اجتماعی دل دھڑکتا ہے۔
باجوڑ کا یہ اجتماع بھی محض ایک دینی تقریب نہیں تھی، بلکہ چند گھنٹوں کے لیے ایک پوری عارضی آبادی کے وجود میں آنے کی زندہ داستان تھا۔ نور الوہاب اور میں اپنے بیس افراد کے گروپ کے ساتھ اس عارضی شہر کے ایک خیمے میں مقیم ہوئے اور اس پورے عمل میں ہم شانہ بشانہ رہے۔
اس روح پرور ماحول کے ساتھ ساتھ، میرے اندر کا محقق اور صحافتی مشاہدہ کار خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ جب ہم نے اس وسیع و عریض میدان کو دیکھا، تو پہلا سوال ذہن میں یہ ابھرا کہ اس وحدت کے سائے تلے آخر کتنی روحیں جمع ہیں؟ عام طور پر ایسے بڑے اجتماعات میں اعداد و شمار جذباتی تخمینوں اور زبانی دعووں کی نذر ہو جاتے ہیں—کوئی اسے لاکھوں کا ہجوم بتاتا ہے اور کوئی محض چند ہزار۔ میں اس مشاہدے کو ایک سائنسی و میدانی تحقیق (Empirical Field Study) کا روپ دینا چاہتا تھا، اس لیے نور الوہاب نے اس پورے تحقیقی عمل، ڈیٹا جمع کرنے اور عارضی آبادی کی سائنسی پیمائش و نمونہ بندی میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔
کسی بھی بڑے ہجوم کا سائنسی تخمینہ لگانے کے لیے وقت کی ترتیب اور کثافت کا جغرافیہ سمجھنا بنیادی شرط ہے۔ نور الوہاب اور میں نے مل کر تین مختلف اور حساس ترین اوقات کا انتخاب کیا۔ پہلی نمونہ بندی 28 ستمبر کی شام کو کی گئی جب آمد کا سلسلہ جاری تھا اور راستے سب سے زیادہ متحرک تھے۔
دوسری نمونہ بندی عشاء کی نماز کے بعد کی گئی جب پورا اجتماع اپنے خیموں اور صفوں میں یکسو ہو کر جم چکا تھا اور کثافت اپنے عروج پر تھی۔ تیسری اور آخری نمونہ بندی 29 ستمبر کی صبح فجر کی نماز کے بعد کی گئی، جس کے فوراً بعد رقت انگیز اجتماعی دعا ہوئی اور میں صبح تقریباً آٹھ بجے وہاں سے روانہ ہو گیا۔
اس آبادیاتی مساوات کو حل کرنے کے لیے ہم نے اپنے قدموں سے اس پورے میدان کے رقبے کو ناپنا شروع کیا۔ چونکہ یہ عارضی پنڈال تمام زاویوں اور کونوں سے بالکل مربع یا یکساں مستطیل شکل کا نہیں تھا، اس لیے ہم نے ایک ہی سیدھی لکیر میں قدم گننے کے بجائے میدان کی مختلف سموت اور اطراف سے اوسط قدموں (Average Steps Measure) کا اصول اپنایا تاکہ جغرافیائی غیر ہمواری کے باوجود رقبے کا حتمی تخمینہ سائنسی طور پر بالکل درست رہے۔
چھ فٹ قد کے انسان کے ایک عام قدم کی اوسط لمبائی تقریباً 2.6 فٹ ہوتی ہے۔ میدان کی طولی پیمائش کا حاصل شدہ اوسط 450 قدم نکلا، جو کہ تقریباً 1,170 فٹ یا 357 میٹر بنتا ہے۔ اسی طرح اس کی عرضی پیمائش (چوڑائی) کا اوسط 260 قدم تھا، یعنی تقریباً 676 فٹ یا 206 میٹر۔ اس حساب سے یہ پورا متحرک انسانی شہر تقریباً 7 لاکھ 91 ہزار مربع فٹ (تقریباً 73,500 مربع میٹر) کے رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔
لیکن رقبہ کتاب کا صرف جلد ہوتا ہے، اندر کا متن تو اس کی کثافت (Density) طے کرتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہجوم کے تخمینے کے طے شدہ اصولوں (Jacobs’ Crowds Density Method) کے مطابق زیرِ استعمال رقبے اور صف بندی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسلامی اجتماعات کی خوبصورتی یہ ہے کہ نظم و ضبط بے ترتیب ہجوم کو بھی صفوں کی جیومیٹری میں ڈھال دیتا ہے۔ خار کے اجتماع میں بھی لوگ منتشر کھڑے ہونے کے بجائے نماز کی صفوں کی ترتیب پر بیٹھتے تھے۔
اگر 206 میٹر (676 فٹ) کی اوسط چوڑائی کو صفوں کے درمیانی فاصلے (5 فٹ) سے تقسیم کیا جائے تو کل 135 متوازی صفیں بنتی ہیں۔ دوسری طرف اگر 357 میٹر (1,170 فٹ) کی اوسط طویل لمبائی میں ایک فرد کے بیٹھنے کے لیے 2 فٹ کی چوڑائی فرض کی جائے، تو ایک ہی صف میں 585 افراد کے شانہ بشانہ بیٹھنے کی گنجائش نکلتی ہے۔ یہ سائنسی ماڈل (135 \times 585) ایک مکمل اور نظریاتی گرڈ کی صورت میں 78,975 (تقریباً 79 ہزار) افراد کی ظرفیت کو پیش کرتا ہے۔
یقیناً میدان کا ہر انچ یکساں نہیں تھا؛ وہاں مرکزی گزرگاہیں، اینٹری پوائنٹس، سروس ایریاز اور خیموں کے درمیانی راستے موجود تھے۔ ان تمام عملی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اور تینوں اوقات کے نمونہ جاتی مشاہدے کو ملا کر جو حقیقت پسندانہ علمی تخمینہ سامنے آتا ہے، وہ 75 ہزار سے 80 ہزار افراد کی ایک انتہائی محطاط اور مضبوط مرکزی کثافت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اس کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ حد 70 سے 85 ہزار کے درمیان ہے۔
یہ باجوڑ کی تاریخ کا ایک ایسا انسانی سمندر تھا جو چند گھنٹوں کے لیے ایک واحد دینی مقصد کے تحت اکٹھا ہوا تھا۔ لیکن جب اتنی بڑی تعداد میں انسان ایک جگہ قیام کرتے ہیں، تو روح کے ساتھ ساتھ جسم کے تقاضے بھی جنم لیتے ہیں—اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں یہ روحانی اجتماع باجوڑ کی غیر رسمی معیشت کو ایک بے مثال اور حیرت انگیز مالیاتی تحرک فراہم کرتا ہے۔
نوٹ: مالیاتی تحرک کے تفصیل کیلئے اگلا حصہ پڑھے
