جب بڑھاپے میں بھی روزی کمانا پڑے

0

عاصم مصطفیٰ اعوان

اسلام آباد: دنیا بھر میں یکم اکتوبر کو بزرگ شہریوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عمر رسیدہ افراد کی خدمات، تجربے اور وقار کو اجاگر کرنا ہے۔ رواں برس اقوام متحدہ نے اس دن کا موضوع “طویل عمری کا دور: طویل زندگیوں کے لیے نظاموں پر نظرِ ثانی” رکھا ہے۔

تاہم کراچی کی سڑکوں پر روزی کمانے والے دو معمر افراد کی زندگی کی تصویریں بڑھاپے کی ایک مختلف حقیقت سامنے لاتی ہیں۔

ان میں سے ایک معمر شخص رنگ برنگے کھلونوں سے بھری ریڑھی دھکیلتے ہوئے شہر کی مصروف سڑکوں پر گاہک تلاش کرتا ہے۔ وہیل چیئر اس کے لیے صرف نقل و حرکت کا ذریعہ نہیں بلکہ تھکن کے لمحات میں عارضی نشست اور کام کی جگہ بھی بن جاتی ہے۔

دوسرا معمر شخص گلیوں میں چمڑے کا مشکیزہ اٹھائے پانی فروخت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے جھریوں زدہ چہرے، سفید داڑھی اور کمزور جسم سے زندگی بھر کی محنت اور مشقت کی داستان جھلکتی ہے۔

ان مناظر میں ریٹائرمنٹ، آرام یا آسودہ بڑھاپے کی گنجائش کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں بڑھاپا بھی روزگار کی جدوجہد کے ساتھ گزر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA) کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد تقریباً 15 ملین ہے، جو 2050 تک بڑھ کر 44 ملین تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ جائزے میں بزرگ شہریوں کے لیے پنشن تک محدود رسائی اور خاندانوں پر ان کی کفالت کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

کراچی کی سڑکوں پر محنت کرتے یہ بزرگ افراد محض ہمدردی کے مستحق نہیں بلکہ اس سوال کی جانب توجہ دلاتے ہیں کہ کیا عمر بھر معاشرے اور خاندانوں کے لیے محنت کرنے والوں کو بڑھاپے میں باوقار زندگی میسر ہے؟

بڑھاپا صرف عمر کا بڑھ جانا نہیں، بلکہ ایسا مرحلہ ہونا چاہیے جہاں زندگی بھر دوسروں کو سہارا دینے والے افراد خود بھی تحفظ، عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

فوٹو: آن لائن

Leave A Reply

Your email address will not be published.