جنگوں کے پسِ پردہ جنگیں

0

سلیم رضا

بریڈفورڈ: آج کی جنگوں کو صرف علاقے، سلامتی اور سیاسی اقتدار کی کشمکش سمجھنا شاید کافی نہیں۔ ایک اور محاذ تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے—عالمی توانائی کا محاذ، جہاں تیل و گیس کے ذخائر کے ساتھ ساتھ ٹینکرز، پائپ لائنز، ریفائنریز، بندرگاہیں، انشورنس، شپنگ روٹس اور مالیاتی منڈیاں بھی جغرافیائی سیاست کا حصہ بن چکی ہیں۔

بظاہر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، بحیرہ احمر اور باب المندب میں سعودی عرب اور حوثیوں کا تنازعہ، اور روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر یوکرینی حملے الگ الگ معاملات دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سب ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔

اس تعلق کا مرکزی نکتہ توانائی ہے۔

آج توانائی کی جنگ میں کسی آئل فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کرنا یا کسی ٹینکر کو ڈبونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات صرف غیر یقینی صورتحال ہی کافی ہوتی ہے۔ ایک جہاز کی انشورنس مہنگی ہو سکتی ہے، شپنگ کمپنی کسی خطرناک راستے سے گریز کر سکتی ہے، ریفائنری اپنی پوری صلاحیت پر کام نہ کرے یا تاجر مستقبل کے ممکنہ خلل کو قیمتوں میں شامل کر دیں۔

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جنگی علاقے سے ہزاروں کلومیٹر دور بھی توانائی مہنگی ہو سکتی ہے۔

جب خطرہ ہی قیمت بڑھا دے

تیل کی عالمی منڈیاں کسی حقیقی تباہی کا انتظار نہیں کرتیں۔ مارکیٹیں خطرے کے امکان پر بھی ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔

جولائی 2026 میں سعودی عرب سے منسلک جہازوں پر حوثی حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت مختصر مدت کے لیے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق 23 جولائی کو برینٹ کی قیمت میں تقریباً سات فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی رپورٹ کیا کہ سعودی ٹینکرز پر حملوں کے باعث عالمی سپلائی کے خدشات میں اضافہ ہوا۔

اہم بات صرف قیمت کا بڑھنا نہیں تھا بلکہ وہ خوف تھا جس نے قیمت کو اوپر دھکیلا۔

یہی جدید توانائی کی جنگ کا ایک بنیادی پہلو ہے: معاشی ہتھیار ہمیشہ میزائل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ وہ غیر یقینی صورتحال ہوتی ہے جو اگلے میزائل کے امکان سے پیدا ہوتی ہے۔

کیا امریکہ بلند تیل قیمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے؟

اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر ایک نظریہ گردش کرتا رہا ہے کہ واشنگٹن مبینہ طور پر حوثی حملوں کو اس لیے برداشت کرتا ہے کہ بحیرہ احمر میں عدم استحکام سے عالمی تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں اور امریکی تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

اس نظریے کی کشش اس لیے ہے کہ اس میں ایک حقیقی معاشی تعلق ضرور موجود ہے۔

امریکہ دنیا کا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ 2025 میں امریکی پیداوار ریکارڈ سطح پر پہنچی، جبکہ صرف پرمیئن بیسن سے روزانہ تقریباً 6.6 ملین بیرل خام تیل پیدا ہوا۔ ڈلاس فیڈرل ریزرو کے سروے میں تیل کے شعبے کے عہدیداروں نے پرمیئن کے بڑے بیسنز میں 2025 کے لیے بریک ایون قیمت تقریباً 61 سے 62 ڈالر فی بیرل بتائی تھی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بلند عالمی قیمتیں امریکی پیداوار کے معاشی مفاد کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

لیکن معاشی فائدہ کسی دانستہ حکومتی پالیسی کا ثبوت نہیں ہوتا۔

ایسا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ واشنگٹن تیل کی قیمت بلند رکھنے کے لیے جان بوجھ کر حوثی حملوں کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے برعکس، 2025 میں امریکہ نے بحری جہازوں پر حملے روکنے کے لیے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کیں، جو بعد میں عمان کی ثالثی سے ہونے والے انتظام کے نتیجے میں ختم ہوئیں۔

لہٰذا یہ کہنا کہ امریکہ حوثی حملوں کا تسلسل چاہتا ہے، صورتحال کے تمام پہلوؤں کی وضاحت نہیں کرتا۔

اصل پیچیدگی یہ ہے کہ ایک بحران ان فریقوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے جنہوں نے وہ بحران پیدا نہیں کیا۔

میزائل سے زیادہ مہنگا انشورنس

بحیرہ احمر کی مثال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے۔

ایک میزائل کسی ٹینکر کو نشانہ بنائے بغیر بھی عالمی شپنگ کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔ خطرناک سمندری راستے میں داخل ہونے والے جہاز کو زیادہ جنگی خطرے کی انشورنس، زیادہ مال برداری کے اخراجات، طویل سفر، اضافی ایندھن، تاخیر اور عملے کی حفاظت سے متعلق خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ستمبر 2026 میں رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ یانبو جانے والے سعودی سے منسلک ٹینکرز کے لیے جنگی خطرے کی انشورنس کا پریمیم جہاز کی مالیت کے تقریباً تین فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ سعودی عرب سے غیر متعلق جہازوں کے لیے یہ شرح تقریباً 0.2 سے 0.3 فیصد تھی۔ یمنی پانیوں کے قریب یہ پریمیم تقریباً سات فیصد تک پہنچ سکتا تھا۔

یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی خطرہ کس طرح مالیاتی نظام میں منتقل ہوتا ہے۔

تنازعہ → خطرہ → انشورنس → شپنگ → سپلائی چین → قیمت

اور اس زنجیر کا اثر جنگی علاقے تک محدود نہیں رہتا۔

بحیرہ احمر میں رکاوٹ نہر سویز کی ٹریفک کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے مصر کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ طویل شپنگ روٹس یورپی تجارت اور ایشیائی سپلائی چینز کے اخراجات بڑھا سکتے ہیں۔ اضافی ایندھن اور مال برداری کی لاگت بالآخر صارفین تک پہنچ سکتی ہے۔

سعودی عرب: ایک راستہ بچانے کی کوشش، دوسرا خطرے میں

سعودی عرب کے پاس ایک اہم تزویراتی سہولت ہے: ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، جو سعودی تیل کو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے بحیرہ احمر تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔

ہرمز میں کسی ممکنہ رکاوٹ کی صورت میں یہ راستہ انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک نئی کمزوری بھی پیدا ہوتی ہے۔

اگر بحیرہ احمر خود غیر محفوظ ہو جائے تو ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے بنایا گیا راستہ بھی خطرے میں آ سکتا ہے۔

2026 میں سعودی عرب نے یانبو کے ذریعے برآمدات پر زیادہ انحصار کیا۔ ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق سال کی دوسری سہ ماہی میں یانبو سے تقریباً 3.9 ملین بیرل یومیہ تیل لوڈ کیا گیا۔

یہ صورت حال ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے: کسی متبادل راستے کا موجود ہونا خطرے کو ختم نہیں کرتا، بلکہ بعض اوقات خطرے کی نوعیت تبدیل کر دیتا ہے۔

وینزویلا اور عالمی تیل کی پیچیدہ حقیقت

وینزویلا اور اس کی بھاری خام تیل کی پیداوار، بالخصوص سٹگو (CITGO)، بھی بعض تجزیوں میں اس وسیع تر توانائی کے منظرنامے سے جوڑی جاتی ہے۔

سٹگو امریکہ میں قائم ریفائننگ کمپنی ہے اور اس کا ملکیتی تعلق وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی PDVSA سے ہے۔ تاہم یہ تصور کہ واشنگٹن کسی مصنوعی بحران کے ذریعے یورپ کو پہلے سے طے شدہ قیمت پر “امریکی-وینزویلا تیل” خریدنے پر مجبور کر سکتا ہے، عالمی تیل کی منڈی کی پیچیدگی کو نظر انداز کرتا ہے۔

تیل ایک عالمی کموڈیٹی ضرور ہے، لیکن ہر خام تیل ہر ریفائنری کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔

ریفائنری کی ساخت، خام تیل کا گریڈ، پائپ لائنز، نقل و حمل کی لاگت، پابندیاں اور تجارتی قوانین سب اہم ہیں۔ یورپی خریداروں کے پاس مختلف سپلائرز تک بھی رسائی ہے۔

اس لیے وینزویلا کی اہمیت کسی خفیہ سازش کے ثبوت سے زیادہ توانائی کی تقسیم پذیر عالمی منڈی کی پیچیدگی میں ہے۔

ایک بیرل کی اصل تزویراتی قدر اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ اسے کون ریفائن کر سکتا ہے، کون منتقل کر سکتا ہے اور کون قانونی طور پر خرید و فروخت کر سکتا ہے۔

جنگ اب ریفائنری تک پہنچ چکی ہے

روس اور یوکرین کی جنگ اس تبدیلی کی ایک اور مثال ہے۔

یوکرین نے روسی تیل کے بنیادی ڈھانچے، بالخصوص ریفائنریوں، کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ مقصد صرف فوجی اہداف کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس صنعتی نظام کو متاثر کرنا بھی ہے جو خام تیل کو پیٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول میں تبدیل کرتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق جون 2026 میں روسی ریفائنریوں کا تھرو پٹ تقریباً 3.8 ملین بیرل یومیہ رہ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کم اور دو دہائیوں سے زائد عرصے میں کم ترین سطح تھی۔

IEA نے 15 ستمبر تک روس کی 28 بڑی ریفائنریوں پر 204 مصدقہ حملے بھی ریکارڈ کیے۔

اس کے نتیجے میں روس نے پیٹرول، جیٹ فیول اور ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں عائد کیں، جبکہ روسی ڈیزل کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

یہاں توانائی کی جنگ کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے:

کسی ملک کی توانائی کی طاقت صرف اس کے تیل کے ذخائر سے نہیں بلکہ اسے قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے بھی طے ہوتی ہے۔

تیل کا کنواں یا ریفائنری؟

خام تیل اور ڈیزل ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

کوئی ملک بڑے پیمانے پر خام تیل پیدا کرنے کے باوجود صاف شدہ ایندھن کی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ریفائننگ کی صلاحیت خود ایک تزویراتی اثاثہ بنتی جا رہی ہے۔

IEA نے صاف شدہ مصنوعات، بالخصوص ڈیزل، کی عالمی منڈی کو انتہائی کشیدہ قرار دیا ہے۔ خلیجی خطے میں حملوں اور برآمدی راستوں میں خلل کے باعث تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ ریفائننگ صلاحیت متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں نے وہاں کی مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات کو بھی متاثر کیا۔

چنانچہ جغرافیائی سیاسی سوال بھی تبدیل ہو رہا ہے۔

اب سوال صرف یہ نہیں کہ تیل کس کے پاس ہے؟

بلکہ یہ بھی ہے کہ:

کون اس تیل کو ایندھن میں تبدیل کر سکتا ہے، اسے سرحدوں کے پار پہنچا سکتا ہے اور صارفین تک قابلِ اعتماد انداز میں پہنچا سکتا ہے؟

توانائی کی نئی زنجیر یوں بنتی ہے:

خام تیل → ریفائنری → ڈیزل/پیٹرول → شپنگ → انشورنس → صارف

اس زنجیر کے کسی بھی مرحلے میں خلل پورے نظام کی قیمت بڑھا سکتا ہے۔

امریکہ کی غیر معمولی پوزیشن

امریکہ اس نظام میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بیک وقت ایک بڑا توانائی پیدا کنندہ، ریفائنر اور برآمد کنندہ ہے، جبکہ اس کے پاس مالیاتی، تکنیکی، عسکری اور لاجسٹک صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔

جب روس یا مشرقِ وسطیٰ کی ریفائننگ صلاحیت متاثر ہوتی ہے تو امریکی ریفائنرز اضافی عالمی طلب پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ستمبر میں رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور روس میں ریفائننگ کے خلل کے دوران امریکی ڈیزل برآمدات 20 فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 1.3 ملین بیرل یومیہ ہو گئیں۔

لیکن اسے محض “امریکی فائدہ” قرار دینا بھی مکمل تصویر نہیں۔

اسی دوران امریکہ میں ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور ملکی ذخائر میں کمی کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

یعنی ایک ہی جغرافیائی سیاسی بحران امریکی معیشت کے مختلف حصوں پر مختلف اثرات ڈال سکتا ہے۔

کچھ پروڈیوسرز اور ریفائنرز کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

روس ختم نہیں ہو رہا، اپنا راستہ بدل رہا ہے

روس پر پابندیوں، یورپی توانائی کی تجارت میں کمی اور ریفائنریوں پر حملوں نے دباؤ ضرور بڑھایا ہے، لیکن اس کا مطلب روسی توانائی کا خاتمہ نہیں۔

روس اب متبادل مارکیٹوں اور راستوں پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ ستمبر 2026 میں روس نے آرکٹک کے ووسٹوک آئل منصوبے سے تجارتی برآمدات کا آغاز کیا، جبکہ مستقبل میں پیداوار بڑھانے کے منصوبے بھی موجود ہیں۔

چین، بھارت، ترکی اور دیگر ممالک روسی توانائی کی تجارت میں پہلے سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔

نتیجہ یہ نہیں کہ روسی توانائی عالمی نظام سے غائب ہو رہی ہے۔

بلکہ اس کا جغرافیہ تبدیل ہو رہا ہے۔

یورپ نے روسی توانائی پر انحصار کم کیا ہے، جبکہ روس نے متبادل خریداروں اور راستوں کی طرف رخ کیا ہے۔

عالمی توانائی کا نقشہ ازسرنو تشکیل پا رہا ہے۔

ایران اور آبنائے ہرمز

پھر ایران کا معاملہ آتا ہے، جس کی جغرافیائی حیثیت اسے دنیا کے اہم ترین توانائی کے گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، کے ساتھ جوڑتی ہے۔

ہرمز میں کسی بھی بڑے خلل کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل راستے استعمال کر سکتے ہیں، امریکہ اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر جاری کر سکتا ہے، یورپ نئے سپلائرز تلاش کر سکتا ہے اور ایشیائی خریدار اپنی خریداری کے طریقے تبدیل کر سکتے ہیں۔

لیکن ان میں سے کوئی بھی اقدام ہرمز کی جغرافیائی اور لاجسٹک اہمیت کا فوری مکمل متبادل نہیں۔

اسی لیے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو صرف ایک علاقائی تنازعہ سمجھنا عالمی توانائی کے تناظر کو نظر انداز کرنا ہوگا۔

تین جنگیں، ایک توانائی کا نظام

الگ الگ دیکھا جائے تو ایران-امریکہ کشیدگی، سعودی عرب-حوثی تنازعہ اور روس-یوکرین جنگ تین مختلف تنازعات ہیں۔

لیکن توانائی کے نقطۂ نظر سے ان کے درمیان روابط واضح ہیں۔

ایران اور امریکہ کی کشیدگی آبنائے ہرمز اور عالمی خام تیل و LNG کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازعہ باب المندب اور بحیرہ احمر کو خطرے کا مرکز بناتا ہے، جس کے اثرات شپنگ، انشورنس اور متبادل برآمدی راستوں تک پھیلتے ہیں۔

روس-یوکرین جنگ میں ریفائنریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر صاف شدہ مصنوعات کی عالمی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔

یعنی مختلف جنگیں ایک ایسے توانائی کے نظام پر دباؤ ڈال رہی ہیں جو پہلے ہی باہم گہرا جڑا ہوا ہے۔

نتیجہ صرف خام تیل کی قلت نہیں ہو سکتا۔

اصل مسئلہ محفوظ، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کی ترسیل کی قلت بھی ہو سکتا ہے۔

کیا “30 فیصد انتشار” کا کوئی اصول ہے؟

یہیں ایک اور مقبول نظریہ سامنے آتا ہے جس کے مطابق عالمی عدم استحکام کی ایک “مثالی” سطح—تقریباً 30 فیصد—ایسی ہو سکتی ہے جہاں تیل کی قیمتیں اتنی بلند رہیں کہ امریکی پروڈیوسرز کو فائدہ پہنچے، لیکن عالمی معیشت اس قدر متاثر نہ ہو کہ نظام ہی بحران کا شکار ہو جائے۔

اس تصور میں ایک خاص کشش ضرور ہے، لیکن اسے کسی باقاعدہ امریکی انٹیلی جنس اصول یا سرکاری حکمت عملی کے طور پر پیش کرنے کے لیے قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔

مارکیٹیں کسی تھرموسٹیٹ کی طرح کام نہیں کرتیں۔

بلند تیل قیمتیں پروڈیوسرز کو فائدہ دے سکتی ہیں، مگر وہ طلب کم کر سکتی ہیں، متبادل توانائی میں سرمایہ کاری بڑھا سکتی ہیں، مہنگائی میں اضافہ کر سکتی ہیں، مرکزی بینکوں کو شرح سود بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہیں اور عالمی کساد کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

ایک ہی جھٹکا معیشت کے ایک حصے کو فائدہ اور دوسرے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس لیے جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کی کوئی ایسی ثابت شدہ “سنہری سطح” موجود نہیں جس پر سب سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہو۔

اصل سوال کیا ہے؟

اصل سوال شاید یہ نہیں کہ آیا امریکہ خفیہ طور پر جنگ چاہتا ہے۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ایک بڑی طاقت کا رویہ اس وقت کیسے تبدیل ہوتا ہے جب ایک ہی جغرافیائی سیاسی بحران اس کی معیشت کے مختلف حصوں کو بیک وقت نقصان بھی پہنچا سکتا ہو اور فائدہ بھی؟

امریکہ کسی تنازعے کو محدود کرنے کی تزویراتی وجوہات رکھ سکتا ہے، جبکہ کچھ امریکی کمپنیاں اس کے معاشی اثرات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

سعودی عرب حملوں سے متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے متبادل برآمدی راستے تزویراتی طور پر زیادہ اہم بن سکتے ہیں۔

روس کی ریفائننگ صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، لیکن بلند عالمی خام تیل قیمتیں اس کی برآمدی آمدنی کو کچھ سہارا دے سکتی ہیں۔

یوکرین روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں یورپی ایندھن کی منڈی میں دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یورپ روسی توانائی پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے، لیکن اسے دیگر سپلائرز پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس پورے نظام میں کوئی ایک واضح فاتح نہیں۔

مختلف مراحل پر مختلف فریق فائدہ اٹھاتے ہیں اور مختلف فریق نقصان اٹھاتے ہیں۔

توانائی کا نیا جغرافیائی سیاسی اثاثہ

شاید اس پورے منظرنامے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ دنیا کی سب سے قیمتی توانائی صرف تیل یا گیس نہیں رہی۔

اس سے بھی زیادہ اہم چیز توانائی کی محفوظ، مسلسل، سستی اور قابلِ بیمہ ترسیل بنتی جا رہی ہے۔

اس کے لیے پائپ لائنیں، ٹینکرز، بندرگاہیں، ریفائنریز، انشورنس مارکیٹیں، شپنگ کوریڈورز، مالیاتی نظام، سیٹلائٹ مواصلات، فوجی تحفظ اور سفارتی معاہدے درکار ہیں۔

ان میں سے کسی ایک میں خلل پورے نظام کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔

اسی لیے ریفائنری کے قریب ڈرون، ٹینکر کے قریب میزائل، انشورنس پر پابندی یا سمندری گزرگاہ میں رکاوٹ ہزاروں میل دور صارفین کو متاثر کر سکتی ہے۔

جنگ کا میدان اب صرف وہ جگہ نہیں جہاں میزائل گرتے ہیں۔

اس میں ریفائنری، ٹینکر، پائپ لائن، انشورنس مارکیٹ، اسٹریٹجک ذخائر، فیوچرز مارکیٹ اور بالآخر صارف کا ایندھن کا بل بھی شامل ہو چکا ہے۔

پاکستان کو اس صورتحال پر کیوں نظر رکھنی چاہیے؟

پاکستان کے لیے یہ محض دور دراز کا جغرافیائی سیاسی بحران نہیں۔

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے عالمی توانائی کے نظام میں بڑے پیمانے پر خلل ملک کے لیے براہِ راست معاشی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خام تیل کی قیمت بڑھا سکتی ہے۔

بحیرہ احمر میں عدم استحکام مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں رکاوٹ خلیجی توانائی کی سپلائی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

روسی ریفائنریوں میں خلل عالمی ڈیزل مارکیٹ کو مزید محدود کر سکتا ہے۔

یورپی توانائی کی طلب میں اضافے سے متبادل سپلائی کے لیے عالمی مسابقت بڑھ سکتی ہے۔

ان سب کے اثرات بالآخر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں، بجلی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور مہنگائی تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس لیے پاکستان کے لیے اسٹریٹجک سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگلی جنگ کون جیتتا ہے۔

زیادہ عملی سوال یہ ہے:

جب دنیا کے کئی بڑے توانائی سپلائی کوریڈور بیک وقت دباؤ میں ہوں تو پاکستان کا توانائی کا نظام کتنا لچکدار ہے؟

سرخیوں سے آگے

یہ دعویٰ کہ امریکہ جان بوجھ کر حوثی حملوں کی اجازت دیتا ہے کیونکہ ہر میزائل امریکی تیل کو زیادہ قیمتی بنا دیتا ہے، ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی حقیقت کو بہت سادہ شکل میں بیان کرتا ہے۔

لیکن اس دعوے کے کمزور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ توانائی اور جنگ کے درمیان بڑھتا ہوا تعلق غیر حقیقی ہے۔

ایک حقیقی جغرافیائی سیاسی معاشی زنجیر موجود ہے:

جنگ → خطرہ → انشورنس → شپنگ → ریفائننگ → سپلائی → قیمت → سرمایہ کاری → سیاسی طاقت

ایران، یمن اور یوکرین کے تنازعات اسی زنجیر کے مختلف حصوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

میدانِ جنگ اب صرف وہ مقامات نہیں جہاں میزائل یا ڈرون گر رہے ہیں۔ اس میں ریفائنریاں، ٹینکرز، پائپ لائنیں، انشورنس مارکیٹیں، اسٹریٹجک ذخائر، فیوچرز مارکیٹس اور صارفین کے ایندھن کے بل بھی شامل ہیں۔

شاید آنے والی دہائی کا اہم جغرافیائی سیاسی سوال یہ نہ ہو کہ تیل کو کون کنٹرول کرتا ہے؟

بلکہ یہ ہو:

دنیا کو محفوظ طریقے سے توانائی کو اقتصادی سرگرمی میں تبدیل کرنے والے راستوں پر کس کا اثر و رسوخ ہے؟

یہ ایک مختلف نوعیت کا مقابلہ ہے۔

جنگیں میزائلوں اور ڈرونز سے لڑی جا سکتی ہیں، لیکن ان کے نتائج تیزی سے بیرل، یومیہ پیداوار، انشورنس پریمیم، ریفائنری کی صلاحیت اور بالآخر پٹرول پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.