نیوز ڈیسک
اسلام آباد: پاکستانی ڈرامہ سیریل ’درِ نجات‘ کی ایک حالیہ قسط میں نظر آنے والی بظاہر معمولی تفصیل نے سوشل میڈیا پر ناظرین کی توجہ حاصل کرلی، جہاں نکاح کے ایک منظر میں بھارتی جیولری برانڈ ’مالابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز‘ کا شاپنگ بیگ نمایاں دکھائی دیا۔
شہریار منور اور درِ فشاں سلیم کے مرکزی کرداروں پر مشتمل ’درِ نجات‘ محبت، اعتماد، رشتوں اور زندگی کی پیچیدگیوں پر مبنی کہانی کے باعث ناظرین میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ تاہم، حالیہ قسط میں ایک منظر نے کہانی سے ہٹ کر سوشل میڈیا صارفین کو ایک مختلف بحث میں الجھا دیا۔
ابو بکر اور زریاب کے نکاح کے منظر کے دوران، جب کردار انگوٹھیوں کا تبادلہ کرتے دکھائی دیے، تو پس منظر میں ’مالابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز‘ کے لوگو والا شاپنگ بیگ واضح طور پر نظر آیا۔ یہ جیولری برانڈ بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھتا ہے۔
منظر کی ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر بیگ پر موجود برانڈ کو شناخت کرلیا اور اس کی پاکستانی ڈرامے میں موجودگی پر سوالات اٹھائے۔
کچھ صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ جب پاکستان میں جیولری کے متعدد معروف برانڈز موجود ہیں تو ڈرامے کے اس اہم منظر میں ایک بھارتی برانڈ کا بیگ کیوں دکھائی دیا۔ بعض صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا یہ محض اتفاق تھا یا اس کا تعلق کسی برانڈ پلیسمنٹ سے تھا۔
کچھ ناظرین نے پاکستان میں مذکورہ برانڈ کے کسی باضابطہ شوروم کی موجودگی کے حوالے سے بھی سوالات کیے اور اس بارے میں آن لائن معلومات تلاش کیں۔
تاہم، سوشل میڈیا پر اس معاملے پر ردعمل یکساں نہیں رہا۔ بعض صارفین نے اسے غیر ضروری بحث قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیشن، جیولری اور تفریحی مواد میں بین الاقوامی برانڈز کا نظر آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ کچھ ناظرین نے برانڈ کے ڈیزائنز کو پسند کرتے ہوئے کہا کہ کسی پروڈکٹ کا بھارتی یا پاکستانی ہونا بذاتِ خود اسے ڈرامے میں دکھائے جانے کو متنازع نہیں بناتا۔
’درِ نجات‘ کے اس منظر نے یہ بھی ظاہر کیا کہ سوشل میڈیا کے دور میں ڈراموں کے پس منظر میں موجود معمولی سے معمولی چیز بھی ناظرین کی نظر سے نہیں بچتی۔ ایک شاپنگ بیگ، جو ممکنہ طور پر محض منظر کا حصہ تھا، اب ڈرامے کی حالیہ قسط کی زیرِ بحث تفصیلات میں شامل ہوگیا ہے۔
