نیوز ڈیسک
پیرس: فرانس میں تعلیمی نظام کی بگڑتی صورتحال کے خلاف طلباء، اساتذہ اور والدین کا احتجاج ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہوگیا، جہاں 6 اکتوبر کو درجنوں شہروں میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں 250,000 سے زائد افراد نے شرکت کی، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے شرکا کی تعداد تقریباً 450,000 بتائی۔
مظاہروں کے دوران بعض شہروں میں پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پیرس، اسٹراسبرگ اور رینس سمیت مختلف مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ متعدد افراد کی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔
تاہم یہ احتجاج کسی ایک مطالبے تک محدود نہیں بلکہ فرانس کے سرکاری تعلیمی نظام سے متعلق کئی برسوں سے موجود شکایات کا مجموعہ ہے۔ اساتذہ کی کمی، پرہجوم کلاس رومز، خستہ حال اسکولوں کی عمارتیں، طویل تعلیمی اوقات، محدود وسائل اور تعلیم تک غیر مساوی رسائی مظاہرین کے اہم خدشات میں شامل ہیں۔
اساتذہ کی کمی کیوں بڑا مسئلہ بن گئی؟
مظاہرین کی نمایاں شکایات میں اساتذہ کی کمی سرفہرست ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب کسی استاد کی غیر حاضری کی صورت میں متبادل استاد دستیاب نہیں ہوتا۔
طلباء اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ عملے کی کمی کے باعث بعض اوقات کلاسیں منسوخ کرنا پڑتی ہیں یا طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
حکومت نے بھی اس مسئلے کا اعتراف کرتے ہوئے غیر حاضر اساتذہ کے متبادل انتظامات کے نظام کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔
کیا فرانس کے کلاس رومز حد سے زیادہ بھر گئے ہیں؟
پرہجوم کلاس رومز بھی احتجاج کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ بڑی تعداد میں طلباء کو ایک ہی کلاس میں پڑھانا نہ صرف تدریس کو مشکل بناتا ہے بلکہ ہر طالب علم پر انفرادی توجہ دینا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔
مظاہرین کے مطابق اساتذہ کی کمی نے پہلے سے موجود اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
طلباء خستہ حال اسکولوں میں کیوں پڑھ رہے ہیں؟
اسکولوں کی عمارتوں کی خراب حالت بھی والدین، طلباء اور اساتذہ میں تشویش کا باعث ہے۔
مظاہرین نے بعض اسکولوں میں پرانی عمارتوں، ناقص دیکھ بھال، پانی کے رساؤ اور چوہوں جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلباء کو ایسی عمارتوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جہاں بنیادی سہولیات اور مناسب دیکھ بھال بھی میسر نہ ہو۔
کیا اسکول کے اوقات بہت طویل ہیں؟
اسکول کے طویل اوقات بھی بحث کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔ بعض اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہ سکتی ہیں، جس کے باعث طلباء کو آرام، کھیل اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے محدود وقت ملتا ہے۔
وزیر اعظم سبسٹین لیکورنو نے وزراء کو اسکول کے نظام الاوقات اور دوپہر کے کھانے کے وقفوں کے دورانیے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
کیا فرانس تعلیم پر کافی رقم خرچ کر رہا ہے؟
احتجاج کا ایک بنیادی مطالبہ تعلیم کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری بھی ہے۔
طلباء، اساتذہ اور والدین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے ناکافی سرمایہ کاری نے اساتذہ اور تعلیمی وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس میں تعلیمی اخراجات مہنگائی کی رفتار کے مطابق نہیں بڑھ سکے، جس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا ملک کا تعلیمی نظام موجودہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب وسائل رکھتا ہے یا نہیں۔
کیا رہائشی علاقہ تعلیمی معیار طے کرتا ہے؟
تعلیمی عدم مساوات بھی احتجاج کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پسماندہ علاقوں اور کم آمدنی والی کمیونٹیز میں رہنے والے طلباء کو نسبتاً مراعات یافتہ علاقوں کے طلباء کے مقابلے میں کم وسائل اور سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔
احتجاج کا آغاز ستمبر میں پیرس کے گردونواح کے پسماندہ مضافاتی علاقوں سے ہوا تھا، جو بعد ازاں ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔
اس صورتحال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا کسی طالب علم کے تعلیمی مواقع کا انحصار اس کے رہائشی علاقے پر ہونا چاہیے؟
کیا تعلیمی دباؤ طلباء کے لیے بڑھتا جا رہا ہے؟
طلباء نے تعلیمی دباؤ، معاون خدمات کی کمی اور یونیورسٹی میں داخلے کے عمل سے متعلق مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق اساتذہ کی کمی، پرہجوم کلاس رومز، خستہ حال اسکول، طویل تعلیمی اوقات اور محدود معاونت پہلے ہی دباؤ کا شکار طلباء کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
فرانسیسی حکومت نے مظاہرین کے خدشات کے جواب میں مختلف معاملات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
ان اقدامات میں غیر حاضر اساتذہ کے متبادل انتظامات، اسکول کے اوقات کار، دوپہر کے کھانے کے وقفوں اور پرانی اسکول عمارتوں سے متعلق مسائل کا جائزہ شامل ہے۔
تاہم مظاہرین اس بات پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا حکومتی جائزے عملی اور دیرپا اصلاحات میں تبدیل ہوسکیں گے۔
احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانس پہلے ہی وسیع تر سیاسی کشیدگی سے دوچار ہے۔ مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور گرفتاریوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
فرانس کے تعلیمی نظام کا مستقبل کیا ہوگا؟
حالیہ مظاہروں نے فرانس کے تعلیمی نظام سے متعلق متعدد مسائل کو ایک ہی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔ اساتذہ کی کمی، پرہجوم کلاس رومز، خستہ حال عمارتیں، طویل اسکول اوقات، محدود وسائل، تعلیمی عدم مساوات اور طلباء پر بڑھتا ہوا دباؤ اب ایک بڑے قومی مسئلے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت عارضی اقدامات سے آگے بڑھ کر تعلیم کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات کرے، مزید اساتذہ بھرتی کیے جائیں، اسکولوں کی عمارتوں کو بہتر بنایا جائے، طلباء کے لیے معاون خدمات میں اضافہ کیا جائے اور تعلیمی بجٹ میں پائیدار سرمایہ کاری کی جائے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا حکومت کے اعلان کردہ اقدامات احتجاج کو ختم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا فرانس کا تعلیمی بحران آنے والے دنوں میں مزید بڑے مظاہروں کو جنم دے گا۔
