کیا فضل الرحمان حکومت اور پی ٹی آئی میں برف پگھلا سکتے ہیں؟

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: پاکستان کی سیاست میں جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے، وہیں ایک غیر متوقع سیاسی کردار ممکنہ طور پر دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جو ماضی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سخت ترین سیاسی مخالفین میں شمار ہوتے رہے ہیں، اب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر زیرِ غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن، دونوں جانب سے مولانا فضل الرحمان سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور سیاسی کشیدگی میں کمی لانے کی راہ نکالی جا سکے۔

تاہم، جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے فوری طور پر ثالثی کا کردار قبول کرنے کے بجائے پانچ شرائط سامنے رکھی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پہلے یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ دونوں فریق واقعی مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں یا محض سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

ان کے لیے یہ بھی اہم ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن اہم معاملات پر لچک دکھانے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں جانب سے ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کرنا اور کسی مشترکہ لائحہ عمل تک پہنچنے کے لیے سمجھوتہ کرنا بھی ضروری ہوگا۔

ایک سابق حریف کا نیا کردار

مولانا فضل الرحمان کی ممکنہ ثالثی کو غیر معمولی بنانے والی سب سے اہم بات ان کے پی ٹی آئی کے ساتھ ماضی کے تعلقات ہیں۔

ایک وقت میں مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے شدید ناقد تھے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اور محاذ آرائی کئی برس تک ملکی سیاست کا نمایاں حصہ رہی۔

ایسے میں اگر وہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کردار ادا کرتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کی سیاسی پوزیشن میں تبدیلی ہوگی بلکہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں بھی ایک اہم پیش رفت تصور کی جائے گی۔

حکومتی وفد کی ملاقات

اسی پس منظر میں بدھ کے روز ایک حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی، جبکہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چوہدری بھی وفد میں شامل تھے۔

ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات اور جاری سیاسی تعطل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان کو سیاسی صورتحال کی سنگینی اور مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ پسِ پردہ رابطے جاری ہیں اور حکومت وسیع تر قومی مفاد میں سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ قومی اسمبلی کے اراکین سے بھی باقاعدگی سے ٹیلی فونک رابطے میں ہیں۔

اپوزیشن بھی فضل الرحمان کے دروازے پر

دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومتی وفد کی ملاقات سے صرف ایک روز قبل پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کے نمائندے بھی مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کر چکے تھے۔

اپوزیشن وفد نے سیاسی تعطل ختم کرنے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان سے تعاون طلب کیا تھا۔

یوں ایک ایسے وقت میں جب حکومت اور اپوزیشن براہِ راست بات چیت کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے میں مشکلات کا شکار ہیں، دونوں جانب سے ایک ہی سیاسی رہنما سے مدد طلب کرنا موجودہ صورتحال کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

مذاکرات کیوں رکے؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز 2 اکتوبر کو ہوا تھا، تاہم دو روز بعد یہ عمل کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہوگیا۔

مذاکرات میں تعطل کے اگلے ہی روز، 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی نے اپنے اعلان کردہ لانگ مارچ کا آغاز کر دیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں مارچ پشاور سے چارسدہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

مذاکراتی عمل کے رکنے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کی پیشکش برقرار رکھی ہے۔ تاہم قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے مطابق مذاکرات کی بحالی کے لیے اپوزیشن کی بنیادی شرط پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینا ہے۔

یہی مطالبہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجود سیاسی خلیج کو کم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم رکاوٹ بن چکا ہے۔

کیا فضل الرحمان راستہ نکال سکتے ہیں؟

اگر مولانا فضل الرحمان باضابطہ طور پر ثالثی کا کردار قبول کرتے ہیں تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج دونوں فریقوں کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔

ان کی سیاسی تاریخ، حکومت اور اپوزیشن دونوں سے رابطے اور موجودہ بحران میں ان کی نسبتاً منفرد پوزیشن انہیں ایک ایسا کردار فراہم کرتی ہے جو براہِ راست فریقین کے بجائے ایک ثالث کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر ثالثی کے کردار پر حتمی اتفاق ہوتا ہے تو مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات بھی متوقع ہے، جس کے بعد سیاسی رابطوں میں مزید پیش رفت کا امکان ہے۔

تاہم اصل سوال یہی ہے کہ کیا حکومت اور پی ٹی آئی اپنے اپنے مؤقف سے کچھ پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوں گے؟

کیونکہ کسی بھی ثالث کے لیے سب سے بڑا امتحان فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانا نہیں بلکہ انہیں سمجھوتے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

اگر فضل الرحمان یہ کردار کامیابی سے ادا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو پاکستان کی موجودہ سیاسی کشیدگی میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے—اور شاید یہی سیاست کا سب سے دلچسپ تضاد بھی ہوگا کہ کبھی پی ٹی آئی کے سیاسی مخالف رہنے والے مولانا فضل الرحمان ہی اسے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز تک واپس لانے میں مرکزی کردار ادا کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.