نیوز ڈیسک
اسلام آباد: یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی نے ایک بار پھر خطے کو شدید کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ریاض اور دیگر سعودی شہروں میں فضائی دفاعی نظام سرگرم ہے، جبکہ پاکستان نے یمن میں جاری کارروائیوں میں پاک فضائیہ کے مبینہ کردار سے متعلق ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے سعودی عرب کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق دو میزائل سعودی دارالحکومت ریاض جبکہ تیسرا جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی جانب فائر کیا گیا تھا۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق میزائلوں کو تباہ کیے جانے کے باوجود ان کا ملبہ ریاض میں متعدد عمارتوں پر گرا، جس کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ عمارتوں میں ایک کنڈرگارٹن اور طبی مرکز بھی شامل ہیں۔
ریاض اور خمیس مشیط دفاعی نظام کی زد میں
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تینوں بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی روک لیے گئے۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ریاض کو نشانہ بنانے والے دو میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ خمیس مشیط کی جانب آنے والے تیسرے میزائل کو بھی فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
اس سے قبل حوثی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے، تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
سعودی ایئرپورٹس پر حملوں نے تشویش بڑھا دی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے دو بڑے ہوائی اڈوں کو حالیہ دنوں میں حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سعودی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 6 اور 7 اکتوبر کو الگ الگ حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
حکام کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین ہلاک جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک سوڈانی شہری جان سے گیا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں پانچ سعودی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل تھا۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور فضائی حدود سے متعلق پابندیوں کے باعث بعض پروازیں تاخیر، ری شیڈولنگ یا منسوخی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ مسافروں کو روانگی سے قبل اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال چیک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان نے یمن میں فضائی کارروائی کی خبروں کو مسترد کر دیا
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
وزارت اطلاعات نے رپورٹ کو ’من گھڑت‘ اور ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے عالمی میڈیا سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک سینئر پاکستانی فوجی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاک فضائیہ کے جنگی طیارے یمن میں حوثیوں کے خلاف حملوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں ایک اور پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ یمن تنازع میں پاکستان کا کردار ممکنہ طور پر زمینی کارروائیوں کے بجائے فضائی معاونت تک محدود رہے گا۔
تاہم وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ مسلح افواج سے متعلق کسی بھی اہم پیش رفت کی صورت میں متعلقہ حکام خود میڈیا کو آگاہ کریں گے۔
ریاض میں دھماکوں کی آوازیں، صورتحال مزید غیر یقینی
ریاض میں جمعرات کو متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، تاہم ابتدائی طور پر ان دھماکوں کی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔
یہ واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کے جواب میں یمن میں بڑے پیمانے پر جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں میزائلوں کے ذخائر، کمانڈ مراکز اور دیگر اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثی گروپ کے ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے ابہا اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمن میں ’آپریشن فجر الیمن‘ اور نئی جنگی صورت حال
دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔
یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے 5 اکتوبر کو ’آپریشن فجر الیمن‘ کا باضابطہ اعلان کیا۔ آپریشن کا بنیادی مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا، دارالحکومت صنعاء پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا اور ملک کی اہم بحری گزرگاہوں کو محفوظ بنانا بتایا گیا ہے۔
حوثی گروپ اس وقت شمالی یمن کے بیشتر علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعاء، پر کنٹرول رکھتا ہے۔ حالیہ لڑائی میں حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جو اس سے قبل بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے زیر انتظام تھے۔
جنگ کے سائے میں انسانی بحران
یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرتی لڑائی نے پہلے ہی سنگین انسانی بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حالیہ لڑائی کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ نے یمن کی موجودہ صورتحال کو انتہائی خطرناک اور تشویشناک قرار دیا ہے۔
سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں، ریاض میں فضائی دفاعی کارروائیوں، یمن میں جوابی حملوں اور پاکستان کے مبینہ کردار سے متعلق متضاد دعووں نے خطے میں جاری تنازع کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ سلسلہ مزید پھیلتا ہے یا سفارتی کوششیں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔
