ڈاکٹر اکرام اللہ خان
پشاور: ہم شجرکاری کے بارے میں عموماً ایک ہی سوال پوچھتے ہیں: کتنے درخت لگائے گئے؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، مگر شاید کافی نہیں۔
اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ان درختوں نے کتنی زمین کو کٹاؤ سے بچایا، پانی کے تحفظ میں کیا کردار ادا کیا، کتنے پودے زندہ رہے، کتنے لوگوں کو روزگار اور آمدنی کے مواقع ملے اور کیا مقامی آبادی ان درختوں کے تحفظ اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں حقیقی طور پر شریک ہوئی
یہ سوال شجرکاری کو محض ایک ماحولیاتی سرگرمی سے نکال کر دیہی ترقی اور انسانی معاش کے وسیع تناظر میں لے جاتے ہیں۔
درخت بیک وقت ماحولیاتی اثاثہ بھی ہے اور معاشی اثاثہ بھی۔
ضلع باجوڑ میں شجرکاری اور جنگلات سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کے بارے میں کی گئی میری حالیہ تحقیق نے بھی اسی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی۔
فاٹا واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ منصوبے کے تحت باجوڑ میں تقریباً 3,268 ہیکٹر رقبے پر شجرکاری کی گئی۔ اہم بات یہ تھی کہ شجرکاری کو صرف پودے لگانے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ چیک ڈیموں اور پانی ذخیرہ کرنے کے چھوٹے تالابوں جیسے اقدامات کو بھی اس کے ساتھ جوڑا گیا۔ یوں جنگلاتی بحالی کو مٹی اور پانی کے تحفظ کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہی دراصل ایک بہتر ترقیاتی سوچ کی علامت ہے۔
دیہی گھرانے عموماً آمدنی کے کسی ایک ذریعے پر انحصار نہیں کرتے۔ زراعت، مویشی، مزدوری، جنگلاتی وسائل اور چھوٹے کاروبار مل کر گھر کے معاشی نظام کو چلاتے ہیں۔
اگر فصل خراب ہوجائے تو مزدوری سہارا دے سکتی ہے، اگر مزدوری کا موقع نہ ہو تو مویشی یا کوئی دوسری سرگرمی مددگار ہوسکتی ہے۔ آمدنی کے مختلف ذرائع کا یہ امتزاج ہی معاشی تنوع پیدا کرتا ہے، اور یہی تنوع گھرانوں کو مختلف معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں نسبتاً مضبوط بناتا ہے۔
جنگلات اس تنوع میں ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
میری تحقیق میں شامل 50 گھرانوں میں 72 فیصد نے جنگلات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار رپورٹ کیا۔ یہ پورے ضلع باجوڑ کے تمام گھرانوں کی نمائندگی نہیں کرتا، کیونکہ مطالعہ مخصوص مستفید گھرانوں تک محدود تھا۔ تاہم یہ اعداد ضرور بتاتے ہیں کہ زیرِ مطالعہ علاقوں میں جنگلات محض ماحول کا حصہ نہیں بلکہ مقامی معاش کا بھی ایک اہم جزو ہیں۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ جنگلات سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم جنگلاتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کا ایسا نظام بنا سکتے ہیں جس میں آج کی آمدنی بھی پیدا ہو اور کل کا جنگل بھی محفوظ رہے؟
یہ توازن سب سے اہم
تحقیق کے شماریاتی نتائج میں جنگلات سے حاصل ہونے والی آمدنی اور بعض معاشی سرگرمیوں، خصوصاً ایندھن کی لکڑی، مزدوری، جانوروں کے چرنے اور جانوروں کے چارے کے درمیان نمایاں تعلق سامنے آیا۔ دوسری طرف مکان کی تعمیر کے لیے جنگلاتی مواد اور شہد کی مکھی پالنے کے ساتھ ایسا نمایاں تعلق نہیں ملا۔
ان نتائج کو کسی سرگرمی کی قطعی کامیابی یا ناکامی نہیں سمجھنا چاہیے؛ یہ صرف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگلاتی وسائل مختلف معاشی سرگرمیوں سے ایک ہی انداز میں منسلک نہیں ہوتے۔
یہاں سے شجرکاری کی اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
اگر درخت صرف لگائے جائیں اور پھر انہیں چھوڑ دیا جائے تو ہمارے پاس ایک ماحولیاتی منصوبہ تو ہوگا، لیکن ضروری نہیں کہ ہمارے پاس ایک کامیاب دیہی ترقیاتی منصوبہ بھی ہو۔
ایک درخت کو معاشی اثاثہ بنانے کے لیے اس کے ساتھ انسان کو بھی تیار کرنا پڑتا ہے۔
ایک مقامی شخص نرسری قائم کرسکتا ہے۔ دوسرا شہد کی مکھی پال سکتا ہے۔ کوئی چارہ پیدا کرسکتا ہے، کوئی پھل دار یا مفید پودوں کی کاشت کرسکتا ہے اور کوئی جنگلاتی مصنوعات کو بہتر شکل دے کر بازار تک پہنچا سکتا ہے۔ لیکن یہ سب خود بخود نہیں ہوتا۔ اس کے لیے تربیت، تکنیکی رہنمائی، مقامی ادارے، بازار اور مناسب پالیسی درکار ہوتی ہے۔
یہاں ہماری شجرکاری پالیسی کو بھی اپنے سوالات تبدیل کرنے چاہییں۔
تحقیق میں 42 فیصد جواب دہندگان نے شجرکاری سے متعلق تربیت حاصل کرنے کی اطلاع دی، جبکہ 24 فیصد جنگلات کے محکمے کی قائم کردہ مقامی تنظیموں کے رکن تھے۔ یہ اعداد کسی منصوبے کو ناکام قرار دینے کے لیے کافی نہیں، لیکن یہ ضرور بتاتے ہیں کہ شجرکاری کے معاشی فوائد کو وسیع کرنے کے لیے تربیت اور مقامی شمولیت کی رسائی مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ اگر مقامی آبادی کے پاس علم، مہارت اور فیصلہ سازی میں کردار نہیں ہوگا تو شجرکاری کا معاشی فائدہ محدود رہ سکتا ہے۔
دوسری طرف جنگلات سے بڑھتا ہوا معاشی انحصار خود ایک سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ اگر گھرانوں کی آمدنی جنگلاتی وسائل پر زیادہ منحصر ہوجائے، لیکن وسائل کے تحفظ اور تجدید کا نظام مضبوط نہ ہو تو آج کا معاشی فائدہ کل کے ماحولیاتی نقصان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اس لیے پائیدار شجرکاری کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ جنگلاتی وسائل نکالیں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جنگلات بہتر ہوں اور ان سے وابستہ معاشی مواقع بھی زیادہ متنوع اور پائیدار ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ شجرکاری کو زراعت، مویشی پالنے، آبپاشی اور دیہی کاروبار سے الگ نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ایک صحت مند جنگل مٹی کے کٹاؤ کو کم کرسکتا ہے، پانی کے قدرتی نظام کو سہارا دے سکتا ہے، حیاتیاتی تنوع کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے اور کاربن جذب کرسکتا ہے۔ جب شجرکاری کے ساتھ چیک ڈیم اور پانی ذخیرہ کرنے کے اقدامات بھی شامل ہوں تو اس کے اثرات صرف جنگلات تک محدود نہیں رہتے۔ زمین اور پانی کا بہتر تحفظ بالآخر زرعی پیداوار اور دیہی معاش کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔
یوں ماحول اور معیشت دو الگ دنیائیں نہیں رہتیں۔
محفوظ مٹی بہتر زراعت کی بنیاد بن سکتی ہے، محفوظ پانی معاش کو سہارا دے سکتا ہے، اور صحت مند جنگل آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی سرمایہ بن سکتا ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جسے شجرکاری کے منصوبوں میں اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ہم پودوں کی تعداد گنتے ہیں، مگر ان پودوں سے پیدا ہونے والے معاشی اور سماجی مواقع کو اسی شدت سے نہیں گنتے۔
باجوڑ جیسے علاقوں میں مستقبل کے شجرکاری پروگراموں کی کامیابی کا پیمانہ اس لیے صرف پودوں کی تعداد نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کتنے پودے زندہ رہے، کتنی زمین محفوظ ہوئی، کتنا پانی بچا، کتنے لوگوں کو تربیت ملی، کتنے مقامی روزگار پیدا ہوئے، کتنے گھرانوں نے نئے معاشی مواقع حاصل کیے اور مقامی آبادی منصوبے کی نگرانی اور فیصلوں میں کتنی شریک ہوئی۔
نرسریوں کو مقامی کاروبار سے جوڑا جائے۔ غیر لکڑی جنگلاتی مصنوعات کے لیے منڈی تک رسائی بہتر بنائی جائے۔ شہد، پھل، چارہ اور دیگر جنگلاتی مصنوعات کی معاشی قدر بڑھانے کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ متبادل ایندھن کے ذرائع کو فروغ دیا جائے تاکہ لکڑی پر دباؤ کم ہو۔ اور سب سے بڑھ کر، مقامی لوگوں کو منصوبے کا مستفید کنندہ نہیں بلکہ شراکت دار سمجھا جائے۔
شجرکاری کو زراعت، آبپاشی، مویشی پالنے اور دیہی کاروبار سے الگ الگ منصوبوں کے بجائے ایک مربوط دیہی ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
آخرکار ایک درخت کی قدر اس کے سائے سے کہیں زیادہ ہے۔
اس کی جڑیں مٹی کو تھام سکتی ہیں، اس کا وجود پانی کے نظام کو سہارا دے سکتا ہے، اس کی شاخیں حیاتیاتی تنوع کو جگہ دے سکتی ہیں اور اس سے وابستہ معاشی سرگرمیاں کسی گھرانے کی آمدنی میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔
اس لیے شجرکاری کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم یہ بتا سکیں کہ کتنے پودے زمین میں اتارے گئے۔
اصل کامیابی تب ہوگی جب ہم یہ بھی بتا سکیں کہ ان درختوں نے کتنی زمین بچائی، کتنا پانی محفوظ کیا، کتنے معاشی مواقع پیدا کیے اور کتنے لوگوں کو اپنے مستقبل کا بہتر مالک بنایا۔
ایک پودا لگانا شجرکاری ہے؛
اس پودے کو ماحول، روزگار اور انسانی خوش حالی سے جوڑ دینا حقیقی دیہی ترقی ہے۔
