شادی سے انکار پر لڑکی کا قتل ناقابلِ رعایت جرم، سپریم کورٹ کا فیصلہ

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شادی سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنے والے مجرم محمد کامران کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شادی سے انکار پر عورت کا قتل کسی صورت قابلِ رعایت جرم نہیں۔

عدالت نے مجرم کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ شادی کے لیے عورت کی آزادانہ رضامندی بنیادی شرط ہے اور شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے پر لڑکی کو قتل کرنا ایک سنگین جرم ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مرد کی انا مجروح ہونے پر عورت کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ محض شادی سے انکار کو قتل جیسے سنگین جرم کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ مجرم کی جانب سے 14 سے 15 سال قید کاٹ لینے سے اسے سزائے موت کے بجائے عمر قید دینے کا خودکار حق حاصل نہیں ہو جاتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سزائے موت پانے والے قیدی کو محض قید کی مدت کی بنیاد پر عمر قید کے مجرم کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں شادی کے معاملے میں عورت کی آزادانہ رضامندی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ انکار کی بنیاد پر قتل کسی رعایت کا مستحق نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.