بیرونِ ملک تعلیم یا دھوکے کا جال؟

0

عاصم مصطفیٰ اعوان

اسلام آباد: سونے کا تمغہ روشن مستقبل کی نوید ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فزکس میں گریجویشن کرنے والی لائبہ اعجاز کے لیے یہ تمغہ برسوں کی محنت اور امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب کی علامت تھا۔ 

تاہم، ایک ایجوکیشن کنسلٹنٹ کی جانب سے مبینہ دھوکہ دہی کے بعد ان کا یہ خواب ایک المیے میں بدل گیا۔ ان کی موت نے ان خاندانوں کی بے بسی کو اجاگر کر دیا ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے مواقع حاصل کرنے کی خاطر اپنی جمع پونجی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، لائبہ کے اہل خانہ نے بیرونِ ملک تعلیم کے حصول کے وعدے پر لاکھوں روپے ادا کیے تھے۔ ان کے والد نے زمین کا ایک ٹکڑا فروخت کیا، جبکہ والدہ کے زیورات بھی رقم کا انتظام کرنے کے لیے استعمال کیے گئے۔ 

خاندان کو امید تھی کہ کنسلٹنٹ داخلے اور سفر سے متعلق دستاویزات کا انتظام کر دے گا۔ لیکن جب دستاویزات مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوئیں تو نہ صرف خاندان کی رقم ضائع ہوئی بلکہ لائبہ کا مستقبل بھی بکھر گیا۔ اس معاملے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم الزامات کی حتمی تصدیق تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا ضروری ہے۔

صرف گرفتاری اس بڑے سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ ان خاندانوں کو کیسے تحفظ فراہم کیا جائے جو تعلیمی مواقع کے حصول کے لیے اپنی محنت کی کمائی ان افراد کے حوالے کر دیتے ہیں جو مبینہ طور پر ان کے خوابوں اور امیدوں کا استحصال کرتے ہیں۔

پاکستان کے بہت سے خاندانوں کے لیے بیرونِ ملک تعلیم محض ایک انفرادی خواہش نہیں بلکہ برسوں کی قربانیوں سے جڑا ایک خاندانی منصوبہ ہوتی ہے۔ والدین زمین، مویشی یا زیورات فروخت کرتے ہیں، رشتہ داروں سے قرض لیتے ہیں اور بعض اوقات ہنگامی حالات کے لیے مختص رقم بھی خرچ کر دیتے ہیں۔ 

وہ تعلیم کو ایسی سرمایہ کاری سمجھتے ہیں جو ان کی اگلی نسل کو مالی مشکلات اور محدود مواقع کے دائرے سے باہر نکال سکتی ہے۔ 

لیکن ایک جھوٹا وعدہ بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ برسوں کی محنت کو ضائع کرنے کے ساتھ ایک نوجوان کو اس مستقبل سے بھی محروم کر سکتا ہے جس کی منصوبہ بندی اس نے بڑی امیدوں اور احتیاط سے کی ہوتی ہے۔

اس معاملے میں پہلی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ تعلیم اور امیگریشن سے متعلق مشاورت فراہم کرنے والے اداروں کو ایک مؤثر ضابطہ کار کے تحت کام کرنا چاہیے۔ خاندانوں کے لیے یہ جاننا آسان ہونا چاہیے کہ متعلقہ کنسلٹنٹ مجاز ہے یا نہیں، اس کی اسناد کی تصدیق کیسے کی جا سکتی ہے اور شکایت کی صورت میں کہاں رجوع کرنا چاہیے۔ کسی دفتر کی شاندار ظاہری حالت یا پرکشش اشتہار اس کی قانونی حیثیت اور پیشہ ورانہ ساکھ کا ثبوت نہیں ہوتا۔

منظور شدہ کنسلٹنٹس کی ایک عوامی رجسٹری، جو آن لائن دستیاب ہو اور باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جاتی رہے، اس سلسلے میں ایک مؤثر ابتدائی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں کنسلٹنٹس کی مجاز خدمات، رجسٹریشن کی تفصیلات اور شکایات درج کرانے کے طریقہ کار کی وضاحت ہونی چاہیے۔ تحریری معاہدوں، فیسوں، رسیدوں، رقوم کی واپسی اور درخواست دہندگان کی دستاویزات کے تحفظ کے لیے بھی واضح اصول وضع کیے جانے چاہییں۔

غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد کو قانون کے مطابق سخت سزاؤں کا سامنا کرنا چاہیے، جبکہ جائز کاروبار کرنے والوں کو شفاف اور منصفانہ ضابطہ کاری کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ 

اسی طرح، دستاویزات کی تصدیق کا عمل بھی آسان اور قابلِ رسائی ہونا ضروری ہے۔ یونیورسٹیوں کو داخلہ خطوط، اسکالرشپ کی منظوری اور فیس کی رسیدوں کی براہِ راست تصدیق کے لیے مؤثر ذرائع فراہم کرنے چاہییں۔ طلباء کو کسی ثالث کی یقین دہانیوں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے ادائیگیاں متعلقہ یونیورسٹی کے سرکاری اور تصدیق شدہ ذرائع سے کرنی چاہییں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کو بھی عوام میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے تاکہ طلباء اور والدین دھوکہ دہی کی عام علامات پہچان سکیں۔ ان میں ویزا کی ضمانت، جعلی اسکالرشپ کے وعدے اور فوری طور پر نقد رقم ادا کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔ 

عوام کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم کے عمل میں کسی بھی غیر معمولی یقین دہانی کو تصدیق کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر متعلقہ حکام بھی ایسے معاملات میں بروقت کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ 

شکایات باقاعدگی سے ریکارڈ کی جائیں، شواہد محفوظ کیے جائیں اور مشتبہ سرگرمیوں کی فوری تحقیقات ہوں۔ جب متعدد خاندان ایک جیسے طریقۂ واردات کی شکایت کریں تو حکام کو ہر معاملے کو الگ تھلگ تنازع سمجھنے کے بجائے ان کے درمیان ممکنہ روابط کا جائزہ لینا چاہیے۔ 

پولیس، مالیاتی اداروں، یونیورسٹیوں اور امیگریشن حکام کے درمیان مؤثر رابطہ ادائیگیوں کا سراغ لگانے، جعلی دستاویزات کی شناخت کرنے اور مزید افراد کو نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان خاندانوں کو نظرانداز نہ کیا جائے جو پہلے ہی اپنی رقم کھو چکے ہیں۔ انہیں شکایات درج کرانے کے طریقہ کار، تحقیقات میں پیش رفت اور رقم کی ممکنہ واپسی کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جانی چاہییں۔

 جہاں دستیاب شواہد اور قانون اجازت دیں، وہاں اثاثوں کا سراغ لگا کر متاثرین کی رقم واپس دلانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اسی طرح، عوامی انتباہات کے ذریعے دیگر درخواست دہندگان کو خبردار کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ثابت شدہ حقائق اور غیر مصدقہ الزامات میں واضح فرق رکھا جائے۔ احتساب مؤثر بھی ہونا چاہیے اور قانونی تقاضوں کے مطابق بھی۔

تاہم، محض ضابطہ کاری اس بے چینی کا مکمل حل نہیں جو بہت سے نوجوان پاکستانیوں کو بیرونِ ملک مستقبل تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ غیر ملکی تعلیم نئی مہارتیں حاصل کرنے، تحقیق کے مواقع پیدا کرنے اور بین الاقوامی روابط استوار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا مطلب اپنے ملک کو مسترد کرنا نہیں ہے۔ 

اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نوجوان یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کی قابلیت اور محنت کو مناسب قدر اسی صورت مل سکتی ہے جب وہ پاکستان چھوڑ دیں۔

پاکستان کو ان حالات کا بھی جائزہ لینا ہوگا جو اس سوچ کو جنم دیتے ہیں۔ طلباء کو قابلِ اعتماد تعلیمی راستوں، تحقیق کے مواقع، میرٹ کی بنیاد پر بھرتی اور گریجویشن کے بعد باعزت زندگی گزارنے کے معقول امکانات کی ضرورت ہے۔

 یونیورسٹیوں کو تعلیم اور روزگار کے درمیان تعلق مضبوط بنانا چاہیے، جبکہ اداروں کو ذاتی تعلقات اور سفارش کے بجائے قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر مواقع فراہم کرنے چاہییں۔ کوئی بھی ملک ہر گریجویٹ کی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتا، لیکن ایسا ماحول ضرور پیدا کر سکتا ہے جس میں باصلاحیت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ملے۔

روپے کی قدر میں کمی اور بیرونِ ملک تعلیم کے بڑھتے اخراجات خاندانوں پر ایک اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔ غیر ملکی یونیورسٹیوں کی فیس، سفر اور رہائش کے اخراجات برسوں کی جمع پونجی ختم کر سکتے ہیں۔ 

مالی دباؤ کا شکار خاندان بعض اوقات کسی بظاہر پرکشش موقع سے فائدہ اٹھانے میں جلد بازی کر بیٹھتے ہیں، اس خوف سے کہ کہیں یہ موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ یہی عجلت انہیں ایسے افراد کے لیے آسان ہدف بنا سکتی ہے جو ایسے عمل میں کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں جس پر کسی نجی کنسلٹنٹ کا اختیار نہیں ہوتا۔

عوامی آگاہی کی مہمات میں ایک بنیادی حقیقت واضح کی جانی چاہیے: کوئی نجی مشیر کسی غیر ملکی حکومت کی جانب سے ویزا جاری ہونے کی قانونی ضمانت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح، داخلے یا اسکالرشپ کے دعووں کی تصدیق متعلقہ ادارے سے براہِ راست کرنا ضروری ہے۔

لائبہ کے سانحے کو محض اس تنبیہ تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے کہ والدین کو زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ یقیناً خاندانوں کو دعووں کی تصدیق کرنی چاہیے، ادائیگیوں کی رسیدیں محفوظ رکھنی چاہییں اور متعلقہ یونیورسٹیوں سے براہِ راست رابطہ کرنا چاہیے۔ لیکن دھوکہ دہی کو روکنے کی بنیادی ذمہ داری ان افراد اور اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے جو اس عمل کی نگرانی اور قانونی حیثیت یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں۔

پاکستان زندہ باد ایک قومی نعرہ ہے، لیکن اس کے برعکس تلخ جملہ ’’پاکستان سے زندہ بھاگ‘‘ ان لوگوں کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو ملک چھوڑنے کو بہتر مستقبل تک پہنچنے کا واحد راستہ سمجھنے لگتے ہیں۔ 

اس سوچ کو پالیسی سازوں کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ اس لیے نہیں کہ ہر نوجوان کو پاکستان ہی میں رہنا چاہیے، بلکہ اس لیے کہ ملک چھوڑنا مایوسی اور بے بسی کا نتیجہ بننے کے بجائے ایک آزادانہ انتخاب ہونا چاہیے۔

سونے کا تمغہ کامیابی کا ثبوت ہے، کسی کے خوابوں اور خواہشات کا استحصال کرنے کا لائسنس نہیں۔ لائبہ کی موت کا ازالہ ممکن نہیں اور کوئی اصلاح ان کے خاندان کے غم کو ختم نہیں کر سکتی۔ تاہم، ان کا سانحہ متعلقہ اداروں کو اپنی خامیاں دور کرنے، طلباء اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور انصاف تک رسائی آسان بنانے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اگر اس واقعے کے بعد بھی مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مزید خاندان اپنی جمع پونجی، اپنے بچوں کے خواب اور شاید اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیزیں کھو سکتے ہیں۔

کسی نوجوان کی کامیابی کا تمغہ اس کی محنت اور صلاحیت کا اعتراف ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے نظام کی ناکامی کی یادگار جو اسے اپنے خواب پورے کرنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم نہ کر سکا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.