دماغی اور جسمانی صحت کے لیے ناشتہ کیوں ضروری ہے؟

نیوزڈیسک

0

اسلام آباد:ناشتہ دن کے اہم ترین کھانوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر ہے۔ یہ نہ صرف دن بھر کی توانائی کا آغاز کرتا ہے بلکہ میٹابولزم کو بھی متحرک کرتا ہے، جو جسم کی صحیح طریقے سے کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔

تاہم، مصروف شیڈول، بھوک کی کمی یا دیگر غذائی عادات کی بنا پر بہت سے لوگ باقاعدگی سے ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں۔

اگرچہ یہ عادت عارضی طور پر بےضرر لگ سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

مختلف تحقیقات کے مطابق، ناشتہ چھوڑنا ذیابیطس ٹائپ ٹو اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

ناشتہ نہ کرنے کے اثرات
1. میٹابولزم پر اثرات:

ناشتہ رات بھر بھوکا رہنے کے بعد میٹابولزم کو فعال کرتا ہے۔ ناشتہ چھوڑنے کی صورت میں جسم توانائی محفوظ کرنے کے لیے میٹابولزم کی رفتار کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ سست میٹابولزم کا مطلب ہے کہ دن بھر کم کیلوریز جلیں گی۔

2. بلڈ شوگر لیول اور خواہشات:

ناشتہ چھوڑنے سے بلڈ شوگر لیول میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے، جو دن بھر نمایاں تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے۔ صبح کے وقت دماغی افعال اور جسمانی سرگرمی کے لیے گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے۔

ناشتہ نہ کرنے سے بلڈ شوگر لیول کم ہو جاتا ہے، جس سے تھکن، چڑچڑاہٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔ یہ صورتحال غیر صحت بخش کھانوں کی خواہشات کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر میٹھے یا چکنائی والے اسنیکس کے لیے۔

مزید پرئیے:https://urdu.thepenpk.com/?p=5969

3. غذائیت کی کمی:

ناشتہ ایک موقع فراہم کرتا ہے جس سے ضروری غذائی اجزاء حاصل کیے جا سکتے ہیں جو دن کے دوسرے اوقات میں نہیں ملتے۔ بہت سے ناشتے فائبر، پروٹین، کیلشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ناشتہ چھوڑنے سے ان اہم غذائی اجزاء کی کمی ہو سکتی ہے جو مجموعی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

4. دماغی صحت پر اثرات:

ناشتہ چھوڑنے کے اثرات صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں ہوتے بلکہ دماغی صحت پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد ناشتہ نہیں کرتے، ان میں مزاج کی خرابی، بےچینی اور ذہنی دباؤ کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

غذائیت کی کمی سے سیروٹونن کی سطح کم ہو سکتی ہے، جو مزاج کو بہتر بنانے والا نیورو ٹرانسمیٹر ہے۔

5. طویل مدتی صحت کے خطرات:

باقاعدگی سے ناشتہ چھوڑنے کو دائمی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔ مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ اس عادت سے موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ ٹو اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ناقص غذائی عادات، میٹابولزم کی کمی اور غذائی اجزاء کی کمی کے مجموعی اثرات وقت کے ساتھ ان سنگین مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

ناشتہ چھوڑنا ایک معمولی بات لگ سکتی ہے لیکن یہ جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات کا ایک سلسلہ شروع کر سکتا ہے۔

صبح کے وقت ہلکا پھلکا کھانا بھی دن کے باقی حصے کے لیے ایک مثبت آغاز فراہم کر سکتا ہے، جس سے توانائی، مزاج اور مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.