اسلام آباد:ہم میں سے اکثر فخر سے یہ جملہ دہراتے ہیں کہ مجھے بنانے کے بعد اللہ نے وہ سانچہ توڑ دیا۔
آج اس بات کو میں اپنے تخیل کے مطابق لفظوں میں پرونے کی کوشش کروں گا۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے، بنانے والے کے پاس سانچہ آج بھی موجود ہے۔
اسلام کی روح سے یہ بات ثابت کرنا بھی آسان ہے۔ قرآن واضح الفاظ میں کہتا ہے:
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةًۭ فَخَلَقَ فَسَوَّى فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ ، أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ۔
ترجمعہ: پھر وہ ایک لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے۔
پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں۔ تو کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کرے؟
خدا سے ملاقات تو کرنی ہے وہ چاہے سو سال کی لمبی مسافت کے بعد ہو، یا ایک پل کے بعد۔
میرا تجربہ کہتا ہے سانچہ ناصرف موجود ہے بلکہ ایک خاص صفت کے ساتھ موجود ہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ بنانے والے سے تعلق مضبوط رکھیں کیونکہ وقت آنے پر اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیا کرتے ہیں مگر بنانے والا کبھی ساتھ نہیں چھوڑ۔
جب یہ دنیا ہمیں توڑ دیتی ہے اور ہم یہ غم اس کو سناتے ہیں تو وہ اسی سانچے میں دوبارہ ہمیں ڈھال کے دل کے ٹوٹے حصے جوڑ دیتا ہے۔
میں آپ کو انسانی فطرت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بھی اس بات کا احساس دلا سکتا ہوں، جیسے ہم کوئی بھی چیز لیتے ہیں اگر وہ خراب ہوجائے یا ٹوٹ جائے تو ہم اس کے بنانے والے کے پاس جاتے ہیں اور وہ ایک سانچے میں ڈال کر اس کو دوبارہ پہلے جیسا کر دیتا ہے، بالکل اسی طرح میرا ماننا ہے کہ اللہ نے ہر ایک شخص کا سانچہ سنبھال رکھا ہے۔
مزید پرئیے:https://urdu.thepenpk.com/?p=5309
اس کو معلوم ہے کہ انسام بڑا نادان ہے، اپنی شرارتوں میں کبھی دل توڑ بیھٹتا ہے تو کبھی حقیقتاً اپنے اعضا کو نقصان پہنچا بیھٹتا ہے۔
اسی لیے وہ ہمشہ اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے کہ جب درد کی شدت بڑھ جائے، کبھی دل زخموں کی تاب نہ لا سکے اور دم گھٹنے لگے، نیند کی جگہ آنکھوں میں اداسی، اشک اور ازیت ہو—تب میری بات ماننا، اپنے بنانے والے کو تمام دکھ سنا دینا۔
ان سب باتوں کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو اس سانچے کی ایک خوبی بتائی جائے، وہ سب مصوروں سے اعٰلی ہے آخر صرف سانچہ کیسے رکھ سکتا تھا کوئی نہ کوئی معجزہ تو رکھنا تھا۔
وہ صفت، وہ خوبی، وہ معجزہ یہ ہے کہ درست کرنے کے بعد وہ اپنی رحمت سے انسان کو نکھار دیتا ہے جیسے ایک پتھر کو تراش کر ہیرا بنایا جاتا ہے ویسے ہی انسان کو تھوڑی سی آزمائش دے کر اس کی شخصیت میں نکھار ڈال دیا جاتا ہے۔
اس کے سانچے تبھی تو دنیا سے مختلف ہیں، وہ فقط پہلے جیسا نہیں بلکہ اس سے بہت بہتر بنا دیتا ہے اور اس کو آپ نکھارنا یا سنوارنا بھی کہ سکتے ہیں۔
غالباً وقت لگ سکتا ہے، کبھی تھوڑا زیادہ تو کبھی پلک جپکنے تک کا اور اس وقت میں بھی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے، شاید انسان کے پورے نکھار کے لیئے وہ وقت درکار ہوتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ چاہے وقت لگ رہا ہو، چاہے درد حد سے بڑھ رہا ہو تم اپنے رب سے ناامید نہ ہونا، وہ تمہارا صبر دیکھےگا، تمہاری محبت دیکھے گا کیونکہ بہت سی جگہوں پر صبر ہی محبت ہے اور بس پھر دوبارہ سانچے میں ڈھالے گا اور پہلے سے بہتر انسان بنا دے گا۔
اور اس کی محبت کی انتہا نہیں ہے اس کو تمہارے صبر پر اتنا پیار آئے گا کہ تم پر اپنی رحمتوں کا سایہ کر کے اس دنیا کے ہر غم سے لڑ جانے کا حوصلہ دے
گا۔یہی اس سانچے کا چھپا راز ہے، وہ پہلے جیسا نہیں پہلے سے بہتر اور سلجھا ہوا بناتا ہے۔