بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل، پارلیمنٹری خواتین سراپا احتجاج

نیوز ڈسک

0

اسلام اباد:بلوچستان میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان جوڑے، شیتل اور زیرک، کو قبائلی جرگے کے حکم پر سرِعام گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ویمن پارلیمنٹری کاکس نے اس قتل کو انسانیت، آئین اور دین کے خلاف کھلی بربریت قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ویمن پارلیمنٹری کاکس کی سیکریٹری جنرل، ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی نے اس دلخراش واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “یہ قتل نہ صرف اسلامی تعلیمات، پاکستان کے آئین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ “اسلام عورت اور مرد کو باہمی رضا کے ساتھ نکاح کا مکمل حق دیتا ہے، مگر افسوس کہ پاکستان میں قبائلی جاہلانہ روایات کے تحت ایسے جوڑوں کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔”
ڈاکٹر شاہدہ نے حکومتِ بلوچستان سے درج ذیل اقدامات فوری طور پر اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کو ٹیسٹ کیس قرار دے کر ملوث تمام افراد — مجرم، سہولت کار، جرگہ ارکان، اور ویڈیو بنانے والے — کو گرفتار کر کے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے۔
شیتل اور زیرک کے خاندانوں کو فوری ریاستی تحفظ اور قانونی امداد فراہم کی جائے۔
جرگہ کلچر اور فرسودہ قبائلی روایات کے خلاف جامع قانون سازی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ہمیں دورِ جاہلیت کی یاد دلاتا ہے، لیکن پاکستانی قوم اور ریاست کو اس بربریت کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔ ویمن پارلیمنٹری کاکس ایسے ہر ظلم کے خلاف مؤثر اور مربوط اقدامات کے لیے تیار ہے اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن کے مطابق، ہر بیٹی کی آواز بننے کے عزم پر قائم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.