گوجرخان میں خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنانے والا پولیس اہلکار بے نقاب

0

نیوز ڈیسک

راولپنڈی: پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کی جانب سے خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی رویے اور بلیک میلنگ کا سنسنی خیز واقعہ منظرعام پر آ گیا ہے۔

مذکورہ اہلکار نے گوجرخان کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے زنانہ وارڈ میں خفیہ ویڈیوز بنائیں اور بعد ازاں ان ویڈیوز کو استعمال کرتے ہوئے خواتین کو بلیک میل کرتا رہا۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ متعلقہ شخص اس نوعیت کے جرم میں ملوث پایا گیا ہو۔ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکار کے خلاف اس سے قبل تھانہ صادق آباد میں ریپ کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔ 

تاہم حیرت انگیز طور پر وہ نہ صرف دوبارہ ملازمت پر بحال ہوا بلکہ حالیہ ایف آئی آر میں اس کا پولیس اہلکار ہونا بھی چھپا لیا گیا ہے۔

انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکار کے موبائل فون سے درجن سے زائد غیر اخلاقی ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں، جن میں مختلف خواتین کو خفیہ طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی نے اس لرزہ خیز واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اہلکار کے خلاف انسدادِ جنسی جرائم کے تحت فوری مقدمہ درج کیا جائے اور اسے فی الفور گرفتار کیا جائے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ موبائل فون سے برآمد ہونے والی تمام ویڈیوز کو کیس کا حصہ بنایا جائے، اور ان پولیس افسران کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی کی جائے جنہوں نے ماضی میں مذکورہ شخص کو بچایا اور دوبارہ ملازمت پر بحال کروایا۔ مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے لیے محکمہ پولیس میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، لہٰذا اہلکار کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے اس پر تاحیات نوکری پر پابندی عائد کی جائے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد پولیس جیسے حساس ادارے میں کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ یہ “محافظ” کے لبادے میں درندے ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، بلکہ متاثرہ خواتین کے لیے فوری انصاف کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

پنجاب پولیس حکام سے تاحال اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.