ورچوئل آٹزم: اسکرینز پاکستان میں کم عمر بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے چیلنج بن گئیں

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد: پاکستان میں دو سے سات سال کی عمر کے بچے بڑھتی ہوئی حد تک موبائل فون، ٹیبلٹ اور دیگر اسکرینز کے عادی ہو رہے ہیں۔ ماہرین صحت اور نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے بچوں کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما شدید متاثر ہو رہی ہے، اور ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے جسے “ورچوئل آٹزم” کہا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ وہ عمر ہے جب بچے بولنا سیکھتے ہیں، جذباتی توازن قائم کرتے ہیں، اور سماجی روابط بنانا شروع کرتے ہیں۔ لیکن کھیل، تعلق اور قدرتی مشاہدے کی بجائے، بچے اب اسکرینز کے سامنے خاموش بیٹھے رہتے ہیں، جو ان کی دماغی نشوونما کو سست کر دیتا ہے۔
سینیئر ماہرِ نفسیات ڈاکٹر اقبال آفریدی، کلینکل سائیکالوجسٹ علِسہ ملک، اور لاہور کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر طیب سلطان نے اے پی پی سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اسکرینز بچوں کی نیند، یادداشت، اور جذباتی توازن کو متاثر کر رہی ہیں۔ کراچی سے ڈاکٹر نرگس اسد اور ماہرِ اطفال ڈاکٹر مبینہ اگبوٹوالا نے بھی تصدیق کی کہ بولنے میں تاخیر اور توجہ کی کمی کی شکایات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
راولپنڈی کے ماہر امراضِ اطفال ڈاکٹر طیب افغانی نے اسے “بچوں سے دور رکھنے والی لعنت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس رجحان سے بچوں کی بینائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
لاہور کی رہائشی سارہ خان نے بتایا، “میرا چھ سالہ بیٹا پہلے باہر کھیلتا تھا، اب گھنٹوں یوٹیوب دیکھتا ہے۔ فون نہ ملے تو رونے لگتا ہے اور کھانے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔” اسی طرح عائشہ ملک، ماریا خان، اور ثمینہ شہروز جیسی ماؤں نے بھی ابتدائی اسکرین ایکسپوژر پر افسوس کا اظہار کیا۔
اساتذہ بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق بچے اسکول میں بیٹھنے، ہدایات سننے اور دوسروں سے میل جول میں دلچسپی نہیں لیتے۔ وہ فوری تسکین کے عادی ہو چکے ہیں، جس سے کلاس روم کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سات سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کے حوالے سے واضح پالیسی اور پابندیاں متعارف کرائی جائیں۔ ساتھ ہی ہسپتالوں، اسکولوں اور فلاحی اداروں کے ذریعے والدین، بالخصوص ماؤں میں آگاہی پیدا کی جائے۔
ماہرین نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ بچوں کے لیے تیار کردہ ڈیجیٹل مواد پر اسکرین ٹائم کی حد، عمر کی شرط، اور حفاظتی ضابطے نافذ کیے جائیں۔
والدین کو یاد رکھنا چاہیے کہ موبائل فون بچوں کو وقتی طور پر چپ کرا سکتا ہے، مگر ان کے مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ بچوں کو اسکرینز نہیں، چہرے، کہانیاں، محبت، صبر اور توجہ درکار ہے۔ جب تک والدین اپنی موجودگی کو ترجیح نہیں دیں گے، ورچوئل آٹزم جیسے مسائل میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.