فلاحی ادارے کی آڑ میں بچوں کی اسمگلنگ: این جی او کی چیئرپرسن گرفتار

نیوز ڈیسک

0

کراچی: ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے ایک بڑی کارروائی کے دوران معروف غیر سرکاری تنظیم HOPE کی چیئرپرسن ڈاکٹر مبینہ قاسم اگبوٹوالا کو بچوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، این جی او کی آڑ میں نابالغ بچوں کو بیرونِ ملک، خصوصاً امریکہ، اسمگل کیا جا رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کا انکشاف اُس وقت ہوا جب امریکی قونصل خانے نے ایف آئی اے کو باقاعدہ شکایت درج کروائی، جس کے بعد تفتیش کا آغاز کیا گیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری ایک منظم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کی کڑی سمجھی جا رہی ہے، جو خود کو فلاحی سرگرمیوں میں مصروف ظاہر کرتا رہا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ان فلاحی تنظیموں کے کردار پر سوال اٹھاتا ہے جو بظاہر عوامی خدمت کے نام پر کام کر رہی ہیں لیکن درحقیقت پیسہ کمانے یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

اس تناظر میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے موضوع پر باکو (آذربائیجان) میں ہونے والی ایک ورکشاپ میں سینئر صحافی مرحوم ارشد وحید چوہدری سے ہونے والی گفتگو نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا تھا۔ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں، ملک میں بعض معروف این جی اوز کا اندرونی رویہ بھی تشویشناک ہے۔ ذہنی صحت اور خواتین کی فلاح کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم “روزن” کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے حاملہ خواتین کو نوکریوں سے فارغ کر کے تین ماہ کی تنخواہیں بچانے کی کوشش کی۔ یہ وہ تنظیم ہے جو آج بھی خواتین کے نام پر فنڈنگ حاصل کر رہی ہے، لیکن اس کا عملی کردار کئی خواتین کے لیے تلخ تجربات کا باعث بن چکا ہے۔

فلاحی کاموں کے نام پر قائم ایسے اداروں کے خلاف شفاف تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت بنتی جا رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.