نیوزڈیسک
اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سوات کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں سے مزید آٹھ افراد کی لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بیس ہوگئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق چار لاشیں بشبنڑ اور چار ڈائیو اڈہ مینگورہ سے برآمد ہوئیں، جبکہ دو افراد زخمی اور چار تاحال لاپتہ ہیں۔
ڈپٹی کمشنر سلیم جان نے تصدیق کی کہ بارشوں اور سیلاب نے سوات کے مینگورہ، منگلور، مٹہ اور کوکارئی میں شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مکان باغ، ملا بابا، لنڈیکس، شہید آباد اور امان کوٹ میں گھروں اور کاروبار کو مکمل تباہی کا سامنا ہے۔
مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت صفائی میں مصروف ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے سے خیبرپختونخوا میں تین سو اکیس افراد جاں بحق اور اٹھائیس زخمی ہوئے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے، صوبائی حکومت، پی ڈی ایم اے، پاک آرمی اور ضلعی انتظامیہ مل کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ شمالی علاقہ جات میں مزید بارشوں کی صورت میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات موجود ہیں۔
عوام اور سیاحوں کو حفاظتی اقدامات کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر تین سو سات افراد جاں بحق ہوئے، جن میں دو سو انّاسی مرد، پندرہ خواتین اور تیرہ بچے شامل ہیں۔
مختلف حادثات میں تئیس افراد زخمی ہوئے جبکہ چوہتر گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے گیارہ مکمل تباہ اور تَرسٹھ جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
حکام کے مطابق متاثرہ اضلاع کے لیے پچاس کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، سب سے زیادہ اموات بونیر میں رپورٹ ہوئیں جہاں ایک سو انسٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔
مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ سیلاب سے گیارہ اضلاع متاثر ہوئے، تین ہزار آٹھ سو سترہ افراد متاثرہ فہرست میں شامل ہیں جبکہ بتیس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ پانچ سو پینتالیس ریسکیو اہلکار اور نوے گاڑیاں امدادی کاموں میں شریک ہیں